Urdu book · مطالعہ قرآن

کائنات کی گواہی

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

جب تم بالکل ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تو پھر تم کو نئے سرے سے بننا ہے۔ کیا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا اس کو کسی طرح کا جنون ہے۔ بلکہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہی عذاب میں اور دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ تو کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی طرف نظر نہیں کی جو ان کے آگے ہیں اور ان کے پیچھے بھی۔ اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان سے ٹکڑا گرا دیں۔ بے شک اس میں نشانی ہے ہر اس بندے کے لئے جو متوجہ ہونے والا ہو۔ (سبا ۷۔ ۹) اس دنیا میں سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ آدمی صحت فکر سے محروم ہو جائے۔ ایسا آدمی کسی چیز کو اس کے صحیح روپ میں نہیں دیکھ پاتا۔ کھلی ہوئی حقیقتوں سے بھی اس کو نصیحت حاصل نہیں ہوتی۔ مثلاً اوپر کی فضا سے مسلسل بے شمار پتھر نہایت تیز رفتاری کے ساتھ زمین کی طرف آتے رہتے ہیں۔ اگر یہ پتھر انسانی بستیوں پر برسنے لگیں تو انسانی نسل کا خاتمہ ہو جائے۔ اسی طرح زمین کے نیچے کا زیادہ حصہ گرم پگھلا ہوا لاوا ہے۔ اگر وہ غیر محدود طور پر پھٹ پڑے تو سطح زمین کی ہر چیز جل کر ختم ہو جائے۔ مگر خدا اپنے خصوصی انتظام کے تحت ایسا ہو نے نہیں دیتا۔ آسمان اور زمین میں اس قسم کی واضح نشانیاں ہیں جو انسان کے عجز کو بتا رہی ہیں۔ مگر جب آدمی کے اندر صحیح سوچ نہ ہو تو کوئی نشانی اس کو ہدایت دینے والی نہیں بنتی۔ کھلی حقیقتوں کے درمیان وہ اس طرح رہتا ہے جیسے اسے کسی حقیقت کی خبر ہی نہیں۔ ہر انسان جو آج زندہ ہے وہ اس سے پہلے موجود نہ تھا۔ اس طرح انسان خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا عدم سے وجود میں آنا ممکن ہے۔ یہی واقعہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ موت کے بعد دوبارہ اس کو پیدا کیا جا سکتا ہے۔ اگر عدم سے وجود سے پہلی بار وجود میں آنا ممکن تھا تو موت کے بعد دوبارہ پیدا ہونا کیوں غیر ممکن ہو جائے گا۔ 34-120 سفارش نہیں کہو کہ ان کو پکارو جن کو تم نے خدا کے سوا معبود سمجھ رکھا ہے، وہ نہ آسمانوں میں ذرہ برابر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page