کائنات کی گواہی
Urdu book, p. 159
By Maulana Wahiduddin Khan
اختیار رکھتے ہیں اور نہ زمین میں اور نہ ان دونوں میں ان کی کوئی شرکت ہے۔ اور نہ ان میں سے کوئی اس کا مددگار ہے۔ اور اس کے سامنے کوئی شفاعت کام نہیں آتی مگر اس کے لئے جس کے لئے وہ اجازت دے۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوگی تو وہ پوچھیں گے کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا۔ وہ کہیں گے کہ حق بات کا حکم فرمایا۔ اور وہ سب سے اوپر ہے، سب سے بڑا ہے۔ (سبا ۲۲۔۲۳) لوگ اکثر خود ساختہ طور پر ایسے عقیدے بنا لیتے ہیں جو انہیں آخرت کی پکڑ سے بے خوف کر دیں۔ انہیں میں سے ایک یہ فرضی عقیدہ بھی ہے کہ بعض ہستیوں کو خدا کے یہاں اتنا بڑا مقام حاصل ہے کہ وہ اپنی سفارش سے جس کو چاہیں بخشوا سکتے ہیں۔ مگر اس قسم کا عقیدہ نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ وہ خدا کی خدائی کا حکم اندازہ ہے۔ جس برتاں کہ نہ سجدہ نہ سرکھے بے بیدار ہے بندہ خدا کا گرمارندہ ہے۔ آدمی کو خدا کی سچی معرفت حاصل ہو جائے وہ خدا کی عظمت کے احساس سے آخری حد تک دب جائے گا۔ ایسے شخص کے بارے میں یہ سمجھنا کتنا عجیب ہے کہ وہ خدا کے یہاں کسی کی نجات کے لئے کافی ہو سکتا ہے۔ اگر آخرت میں خدا کسی کو اس کی عزت افزائی کے لئے اسے بولنے کا موقع دے تب بھی وہ وہی بات کہے گا جو خدا کا فیصلہ ہے نہ کہ وہ اپنے طرف سے وہاں کسی بات کو منوانے کی کوشش کرے۔ نبوت محمدی اور ہم نے تم کو تمام انسانوں کے لئے خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (سبا ۲۸) ہر نبی نے براہ راست طور پر صرف اپنی قوم کے اوپر دعوتی کام کیا۔ اور یہی عملاً ممکن تھا۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بھی براہ راست طور پر اپنی ہی قوم کے لئے منذر و مبشر بنے۔ (الانعام ۹۲) مگر چونکہ آپ پر نبوت ختم ہو گئی اس لئے اب تمام قوموں کے لئے حکماً آپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader