کائنات کی گواہی
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
ہی منذر اور مبشر ہیں۔ اپنے زمانہ میں اپنے مخاطبین اول پر جس طرح آپ نے انذار و تبشیر کا کام کیا اسی طرح بعد کے زمانے میں دوسرے تمام مخاطبین پر آپ کی امت کو آپ کی نیابت میں انذار و تبشیر کا یہی کام کرنا ہے۔ یہ سارا کام آپ کی نبوت کے تسلسل میں شمار ہوگا۔ آپ کی زندگی میں کیا جانے والا دعوتی کام براہِ راست طور پر آپ کے دائرہ نبوت میں داخل ہے اور آپ کی دنیوی زندگی کے بعد کیا جانے والا کام بالواسطہ طور پر۔ 34-122 خوش حالی کا فتنہ اور ہم نے جس بستی میں بھی کوئی ڈرانے والا بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم تو اس کے منکر ہیں جو دے کر ہم بھیجے گئے ہو۔ اور انہوں نے کہا کہ ہم مال اور اولاد میں زیادہ ہیں اور ہم کبھی سزا پانے والے نہیں۔ کہو کہ میرا رب جس کو چاہتا ہے زیادہ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کم کر دیتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد وہ چیز نہیں جو دتے طے کریں جو ہمارا مقرر کرنا ہو، سنادے سالہ آیت ج (ہو الایمان) اور ۲۱، زینک عمل رکھا ہے لوگو اس کو بور درجہ میں وہ ہمارا مقرب بنا دئے۔ البتہ جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیا۔ ایسے لوگوں کے لئے ان کے عمل کا دونا بدلہ ہے اور وہ بالا خانوں میں اطمینان سے رہیں گے۔ اور جو لوگ ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے کے لئے سرگرم ہیں وہ عذاب میں داخل کئے جائیں گے۔ (سبا ۳۲۔۳۸) جن لوگوں کے پاس قوت اور مال آجاۓ ان کو موجودہ دنیا میں بڑائی کا مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ چیز ان کے اندر فرضی اعتماد پیدا کر دیتی ہے۔ ایسے لوگوں کو جب آخرت سے ڈرایا جاتا ہے تو وہ اس کو اہمیت نہیں دے پاتے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ دنیا میں جب خدا نے ان کو عزت دی ہے تو آخرت میں وہ انہیں بے عزت کر دیگا۔ یہی فرضی اعتماد ہر دور کے بڑوں کے لئے دعوت حق کو نہ ماننے کا سب سے بڑا سبب رہا ہے۔ اور وقت کے بڑے لوگ جب ایک چیز کو حقیر کر دیں تو چھوٹے لوگ بھی اس کو حقیر سمجھ لیتے ہیں، اس طرح خواص اور عوام دونوں حق کو قبول کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader