کائنات کی گواہی
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا کا مال و اسباب امتحان ہے نہ کہ انعام۔ دنیا کے مال و اسباب کی زیادتی نہ کسی آدمی کے مقرب ہونے کی علامت ہے اور نہ اس کی کمی اس کے غیر مقرب ہونے کی علامت۔ اللہ کے یہاں قربت کا مقام اس شخص کے لئے ہے جو اس بات کا ثبوت دے کہ جو کچھ اس کو دیا گیا تھا اس میں وہ خدا کی یادوں کے ساتھ جیا اور خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا اپنے آپ کو پابند رکھا۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خدا کے ابدی انعام کے مستحق قرار دیئے جائیں گے۔ 35-123 توحید اور شرک اے لوگو، اپنے اوپر اللہ کے احسان کو یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر تم کہاں دھوکا کھارہے ہو (فاطر ۳) انسان اپنی زندگی کے لئے بے شمار چیزوں کا محتاج ہے۔ مثلاً روشنی، پانی، ہوا، خوراک، معدنیات، وغیرہ۔ ان میں سے ہر چیز ایسی ہے کہ اس کو وجود میں لانے کے لئے کائناتی طاقتوں کا متحدہ عمل درکار ہے۔ ایک خدا کے سوا کون ہے جو اتنے بڑے واقعہ کو ظہور میں لانے کی طاقت رکھتا ہو۔ مشرک اور ملحد لوگ بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ ان اسبابِ حیات کی فراہمی ایک خدا کے سوا کوئی اور کر سکتا ہے۔ پھر جب ان تمام چیزوں کا خالق اور منتظم ایک خدا ہے تو اس کے سوا دوسروں کو معبود بنانا کیوں درست ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ توحید کی صداقت کا اعلان کر رہی ہے۔ اس کے مقابلہ میں شرک کا عقیدہ اس کائنات میں بالکل اجنبی ہے۔ توحید کی بنیاد دلائل پر ہے، اور شرک کی بنیاد صرف توہمات پر۔ تاریکی اور روشنی اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں۔ اور نہ اندھیر اور نہ اجالا۔ اور نہ سایہ اور نہ دھوپ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader