کائنات کی گواہی
Urdu book, p. 162
By Maulana Wahiduddin Khan
اور نہ زندہ اور مردہ برابر نہیں ہو سکتے۔ بے شک اللہ سناتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے اور تم ان کو سنانے والے نہیں بن سکتے جو قبروں میں ہیں۔ تم تو بس ایک خبر دار کرنے والے ہو۔ (فاطر (۲۳) یہ ایک حقیقت ہے کہ جو امید روشنی سے کی جاسکتی ہے وہ تاریکی سے نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح سایہ سے جو چیز ملے گی وہ دھوپ سے ملنے والی نہیں۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسانوں میں کچھ آنکھ والے ہوتے ہیں اور کچھ اندھے ہوتے ہیں۔ آنکھ والا فوراً اپنے راستہ کو دیکھ کر اسے پہچان لیتا ہے۔ مگر جو اندھا ہو وہ صرف بھٹکتا پھرے گا۔ اس کو کبھی اپنے راستہ کی پہچان نہیں ہو سکتی۔ ایمان سے مراد معرفت ہے۔ خدا کا مطلوب ایمان وہ ہے جو کسی کو معرفت (ڈسکوری) کے طور پر ملے۔ امکانی طور پر اس معرفت کی استعداد ہر شخص کے اندر موجود ہے۔ مگر اس استعداد کا فائدہ صرف اس شخص کو ملتا ہے جو معرفت کی رکاوٹوں کو عبور کر کے منزل تک پہنچنے کا حوصلہ رکھتا ہو ۔ علم سے خشیت کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر ہم نے اس سے مختلف رنگوں کے پھل پیدا کر دئے ۔ اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ مختلف رنگوں کے ٹکڑے ہیں اور گہرے سیاہ بھی ۔ اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے صرف وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ بے شک اللہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔ (فاطر ۲۷۔۲۸) بادل سے ایک ہی پانی برستا ہے مگر اس سے مختلف قسم کی چیزیں اگتی ہیں۔ اچھے درخت بھی اور جھاڑ جھنکار بھی ۔ اسی طرح ایک ہی مادہ ہے جو پہاڑوں کی صورت میں منجمد ہوتا ہے مگر ان میں طرح طرح کے مختلف رنگ پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح جاندار بھی سب ایک غذا کھاتے ہیں۔ مگر ان میں سے کوئی انسان کے لئے کار آمد ہے اور کوئی بے کار۔ یہاں مختلف کائناتى نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے کہ : اللہ سے اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader