Urdu book · مطالعہ قرآن

کائنات کی گواہی

Urdu book, p. 163

By Maulana Wahiduddin Khan

بندوں میں سے صرف وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ سیاق کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں خدا کی نشانیوں کا مطالعہ آدمی کے اندر اللہ کا خوف پیدا کرتا ہے۔ اس مطالعہ کے ذریعہ آدمی یہ دریافت کرتا ہے کہ خدا کتنا زیادہ عظیم اور قدیر ہے وہ مخلوقات میں خالق کا جلوہ دیکھنے لگتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو آدمی کائنات کا مطالعہ صحیح ذہن کے ساتھ کرے، اس کے لئے کائنات معرفت الہی کا آئینہ بن جائے گی۔ 36-126 خلاء کی گواہی اور ایک نشانی ان کے لئے رات ہے، ہم اس سے دن کو کھینچ لیتے ہیں تو وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں اور سورج، وہ اپنی ٹھہری ہوئی راہ پر چلتا رہتا ہے۔ یہ عزیز و علیم کا باندھا ہوا اندازہ نہے۔ اور چاند کے لئے ہم نے منزلیں مقرر کر دیں ہیں، یہاں تک کہ وہ ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی شاخ۔ نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو پکڑ لے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور سب ایک ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں۔ (یس ۳۶۔۴۰) زمین اور چاند اور سورج سب کا ایک مدار مقرر ہے۔ سب اپنے مختلف مدار پر حد درجہ صحت کے ساتھ گھوم رہے ہیں۔ اس گردش سے مختلف مظاہر وجود میں آتے ہیں۔ مثلاً زمین پر رات اور دن کا پیدا ہونا، چاند کا کم و بیش ہو کر فلکیاتی کیلنڈر کا کام کرنا، وغیرہ۔ یہ نظام کروڑوں سال سے قائم ہے اور پھر بھی اس میں کسی قسم کا کوئی خلل واقع نہیں ہوا۔ یہ مشاہدہ خدا کی ا تھا ہ قدرت کا ایک تعارف ہے۔ اگر آدمی اسی سے سبق لے تو ایک خدا کی عظمت اس کے ذہن پر اس طرح چھائے کہ دوسری تمام عظمتیں اپنے آپ اس کے ذہن سے حذف ہو جائیں۔ کائنات ایک انتہائی وسیع خلاء ہے۔ اس کے اندر بے شمار ستارے اور سیارے ہیں، کہکشائیں اور شمسی نظام ہیں۔ یہ تمام اکرام مسلسل تیز رفتاری کے ساتھ حرکت کر رہے ہیں۔ مگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page