Urdu book · مطالعہ قرآن

کائنات کی گواہی

Urdu book, p. 165

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ مانگیں گے۔ ان کو سلام کہلایا جائے گا مہربان رب کی طرف سے۔ (یس ۵۸۵۲) موجودہ دنیا میں آدمی کے عمل کے معنوی نتائج سامنے نہیں آتے۔ آخرت وہ جگہ ہے جہاں ہر آدمی اپنے عمل کے معنوی نتائج کو پائے گا۔ جو شخص یہاں صرف وقتی مفادات کے لئے سرگرم رہاوہ آخرت کی ابدی دنیا میں اس طرح اٹھے گا کہ وہاں بالکل خالی ہاتھ ہوگا۔ اس کے برعکس جو لوگ اعلیٰ مقصد کے لئے جئے وہ وہاں شاندار انجام میں خوش ہو رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایات اس کے علاوہ ہوں گی۔ جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی ایک دنیا ہے۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پر لطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوشگواری کا وہاں خاتمہ ہو چکا ہو گا۔ انسان کے لئے یہ ممکن ہو گا کہ وہ اپنی پوری استعداد (capacity) کے ساتھ وہاں جی سکے۔ تسخیر کائنات کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لئے مویشی پیدا کئے۔ تو وہ ان کے مالک ہیں اور ہم نے ان کو ان کا تابع بنادیا۔ تو ان میں سے کوئی ان کی سواری ہے اور کسی کو وہ کھاتے ہیں۔ اور ان کے لئے ان میں فائدے ہیں اور پینے کی چیزیں بھی۔ تو کیا وہ شکر نہیں کرتے (یس ۷۱۔۷۳) مویشی جانور ایک قسم کی زندہ علامت ہیں جو بتاتے ہیں کہ مادی دنیا کو اس کے بنانے والے نے اس طرح بنایا ہے کہ انسان اس کو مسخر کر کے اس کو استعمال کر سکے۔ مادی دنیا کی اسی صلاحیت کے اوپر انسانی تہذیب کی پوری عمارت قائم ہے۔ اگر گھوڑے اور بیل میں بھی وہی وحشیانہ مزاج ہو جو جو چچھ اور بھیڑئے میں ہوتا ہے۔ یا لوھا اور پٹرول اسی طرح انسان کے قابو سے باہر ہوں جس طرح زمین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page