کائنات کی گواہی
Urdu book, p. 166
By Maulana Wahiduddin Khan
کے اندر کا آتش فشاں مادہ انسان کے قابو سے باہر ہے تو تہذیب انسانی کار تقاضا ناممکن ہو جائے۔ اسی قانون فطرت کو قرآن میں تسخیر کہا گیا ہے۔ زمین اور زمین سے باہر کی تمام چیزیں اسی عمومی تسخیر کے تحت ہیں۔ کائنات میں اگر تسخیر کا یہ معاملہ نہ ہوتا تو انسان کے لئے اس دنیا میں نہ زندگی ممکن ہوتی اور نہ ترقی۔ 37-130 موت کے بعد زندگی قرآن میں مخالفین کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: پس ان سے پوچھو کہ ان کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا ان چیزوں کی جو ہم نے پیدا کی ہیں۔ ہم نے ان کو چپکتی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ بلکہ تم تعجب کرتے ہو اور وہ مذاق اڑارہے ہیں۔ اور جب ان کو سمجھایا جاتا ہے تو وہ سمجھتے نہیں۔ اور جب وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو وہ اس کو ہنسی میں ٹال دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو بس کھلا ہوا جادو ہے۔ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو پھر ہم اٹھائے جائیں گے ۔ اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی۔ کہو کہ ہاں، اور تم ذلیل بھی ہوگے۔ (الصافات ۱۱-۱۸) زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدے میں آتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسان کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلہ ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتا ہے ۔ جس خالق کی قوت تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔ انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین، وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں، پھر جن کائناتی اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کر دیا، انہی کائناتی اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader