حاكم کے فرائض
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
حاكم کے فرائض حضرت داؤد پیغمبر بھی تھے اور بادشاہ بھی۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ان کو خطاب کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا: اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ (حاکم) بنایا ہے۔ تم لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرو وہ تجھ کو اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ اس وجہ سے کہ وہ روز حساب کو بھولے رہے۔ (ص ۲۶) ایک حاکم ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے۔ یا تو وہ معاملات کا فیصلہ اپنی چاہت کے مطابق کرے گا یا اصول حق کے مطابق۔ جو حاکم معاملات کا فیصلہ اپنی چاہ اور خواہش کے مطابق کرے وہ راہ سے بھٹک گیا۔ خدا کے یہاں اس کی سخت پکڑ ہو گی۔ اس کے بر عکس جو حاکم معاملات کا فیصلہ حق وانصاف کے اصول کا پابند رہ کر کرے وہی راہ راست پر ہے۔ خدا کے یہاں اس کو بے حساب دی انعامات دئے جائیں گے۔ حساب علامات دئے جائیں گے۔ یہ ہدایات جس طرح ایک حاکم کے لئے ہے اسی طرح وہ عام انسانوں کے لئے بھی ہے۔ ہر انسان کے ساتھ اس کی خواہش لگی ہوئی ہے۔ ہر انسان کے لئے ہر معاملہ میں یہ سوال رہتا ہے کہ وہ اپنی خواہش پر چلے یا حق اور عدل کے اصول کے مطابق اپنی روش کا تعین کرے۔ ایک عام آدمی کی نجات بھی اسی طریقہ کو اختیار کرنے میں ہے جس میں ایک حکمراں کی نجات ہے۔ ہر آدمی کو اپنے دائرہ اختیار میں وہی کرنا ہے جو اس آیت میں با اقتدار حاکم کے لئے بتایا گیا ہے۔ 38-132 کائنات کا سبق اور ہم نے زمین اور آسمان اور جو ان کے درمیان ہے عبث نہیں پیدا کیا، یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے انکار کیا، تو جن لوگوں نے انکار کیا ان کے لئے بربادی ہے آگ سے۔ کیا ہم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader