حاكم کے فرائض
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان کی مانند کر دیں گے جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں۔ یا ہم پر ہیز گاروں کو بد کاروں جیسا کر دیں گے۔ یہ ایک با بر کت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تا کہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ (ص ۲۷_۲۹) دنیا کی چیزوں پر غور کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا پورا نظام نہایت حکیمانہ بنیادوں پر قائم ہے حالانکہ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ایک ال لل ٹپ نظام ہو اور اس میں کوئی بات یقینی نہ ہو۔ دو امکان میں سے ایک مناسب تر امکان کا پایا جانا اس بات کا قرینہ ہے کہ اس دنیا کو پیدا کرنے والے نے اس کو ایک با مقصد منصوبہ کے تحت بنایا ہے۔ پھر جو دنیا اپنی ابتداء میں با مقصد ہو وہ اپنی انتہا میں بھی مقصد کو پورا کر کے رہے گی۔ میں بے مقصد یوں کر ہو جائے گی۔ اسی طرح اس دنیا میں ہر آدمی آزاد اور خود مختار ہے۔ مشاہدہ دوبارہ بتاتا ہے کہ لوگوں میں کوئی شخص وہ ہے جو حقیقت کا اعتراف کرتا ہے اور اپنے اختیار سے اپنے آپ کو سچائی اور انصاف کا پابند بناتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا شخص وہ ہے جو حقیقت کا اعتراف نہیں کرتا۔ وہ بے قید ہو کر جو چاہے بولتا ہے اور جس طرح چاہے عمل کرتا ہے۔ عقل اس کو تسلیم نہیں کرتی کہ جب یہاں دو قسم کے انسان ہیں تو ان کا انجام یکساں ہو کر رہ جائے۔ دنیا کی اس صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو زندگی کے متعلق قرآن کا بیان ہی زیادہ مطابق حقیقت نظر آئے گا نہ کہ ان لوگوں کا بیان جو زندگی کی تشریح اس کے برعکس انداز میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن کا کائناتی حقیقتوں کے بارے میں ایک خدائی بیان ہے، اور اس بیان کا عین مطابق واقعہ ہونا اس کے حق ہونے کا ایک لازمی ثبوت۔ 38-133 جنت کی نعمتیں یہ نصیحت ہے، اور بے شک اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے اچھا ٹھکانہ ہے، ہمیشہ کے باغ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader