Urdu book · مطالعہ قرآن

حاكم کے فرائض

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے۔ وہ ان میں تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ اور بہت سے میوے اور مشروبات طلب کرتے ہوں گے۔ اور ان کے پاس شرمیلی ہم سن بیویاں ہوں گی۔ یہ ہے وہ چیزیں جس کا تم سے روز حساب آنے پر وعدہ کیا جاتا ہے۔ یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ (ص ۴۹۔ ۵۲) آخرت میں جنت کے دروازے ان لوگوں کے لئے کھولے جائیں گے جو دنیا میں اپنے دل کے دروازے نصیحت کے لئے کھولے رکھیں۔ جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا سے ڈرنے والے بن جائیں۔ یہی وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو اگلے دور حیات کی ابدی نعمتوں کے حصہ دار بنیں گے۔ قرآن میں آخرت کی جن نعمتوں کا ذکر ہے وہ سب بظاہر وہی ہیں جو دنیا میں بھی انسان کو حاصل ہوتی ہیں۔ مگر دونوں میں زبردست فرق ہے۔ وہ یہ کہ دنیا میں یہ نعمتیں اپنی وقتی اور ابتدائی شکل میں دی گئی ہیں اور آخرت میں یہ نعمتیں اپنی ابدی اور انتہائی شکل میں دی جائیں گی۔ مزید یہ کہ ان اعلیٰ نعمتوں کے ساتھ ہر قسم کے خوف اور اندیشہ کو حذف کر دیا جائے گا جن کا انسان اور شیطان جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔ پھر جب میں اس کو درست کر لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر پڑتا۔ پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، کہ اس نے گھمنڈ کیا اور وہ انکار کرنے والوں میں ہو گیا۔ فرمایا کہ اے ابلیس، کس چیز نے تجھ کو روک دیا کہ تو اس کو سجدہ کرے جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا۔ یہ تو نے تکبر کیا یا تو بڑے درجہ والوں میں سے ہے۔ اس نے کہا کہ میں آدم سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے۔ فرمایا کہ تو یہاں سے نکل جا، کیوں کہ تو مردود ہے۔ اور تجھ پر میری لعنت ہے جزا کے دن تک۔ (ص ۷۱-۷۸)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page