Urdu book · مطالعہ قرآن

حاكم کے فرائض

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک انتہائی خصوصی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا اور اس کی علامت کے طور پر فرشتوں اور جنوں کو حکم دیا کہ وہ اس کو سجدہ کریں۔ اس کے بعد جب ایسا ہوا کہ ابلیس نے آدم کو سجدہ نہیں کیا تو وہ ہمیشہ کے لئے ملعون قرار دیا گیا۔ مگر اس سنگین واقعہ کی اہمیت صرف ابلیس کے اعتبار سے نہ تھی بلکہ خود آدم کے لئے بھی اس کی بے حد اہمیت تھی۔ آدم کے آگے جھکنے سے انکار کر کے ابلیس ابدی طور پر نسل آدم کا حریف بن گیا۔ اس طرح انسانی تاریخ اول دن سے ایک نئے رخ پر چل پڑی۔ اس واقعہ نے طے کر دیا کہ انسان کے لئے زندگی کا سفر کوئی سادہ بات نہیں ہو گا بلکہ شدید مزاحمت کا سفر ہو گا۔ اس کو ابلیس کے بہکاؤں اور اس کی پر فریب تدبیروں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو صحیح راستے پر قائم رکھنا ہوگا تا کہ وہ سلامتی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ سکے۔ انسان اور جنت کے درمیان شیطان کی فریب کاریاں حائل ہیں۔ جو شخص شیطان کی فریب کاریوں سے اپنے آپ کو بچائے وہی جنت کے ابدی باغوں میں داخل ہوگا۔ اور جو لوگ شیطان کی فریب کاریوں کا پردہ پھاڑنے میں ناکام رہیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت سے محروم رہ گئے۔ انسان کی گمراہی اگر اللہ چاہتا کہ وہ بیٹا بنائے تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا چن لیتا، وہ پاک ہے۔ وہ اللہ ہے، اکیلا، سب پر غالب ۔ اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔ وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے۔ اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے۔ ہر ایک ایک ٹھہری ہوئی مدت پر چلتا ہے۔ سن لو کہ وہ زبردست ہے، بخشنے والا (الزمر ۴-۵) آدمی کے اندر فطری طور پر یہ جذبہ ہے کہ وہ خدا کی طرف لپکے۔ وہ خدا کی پرستش کرے ۔ شیطان کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اس جذبہ کو خدا کی طرف سے ہٹا کر دوسری طرف موڑ دے۔ اس کے لئے وہ لوگوں کے ذہن میں مختلف شبہات ڈالتا ہے۔ مثلاً یہ کہ خدا کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page