حاكم کے فرائض
Urdu book, p. 175
By Maulana Wahiduddin Khan
کا معاملہ ایک ایسے خدا سے ہے جو غفور ورحیم ہے۔ وہ آدمی کے ماضی کو نہیں بلکہ اس کے حال کو دیکھتا ہے۔ وہ آدمی کے ظاہر کو نہیں بلکہ اس کے باطن کو دیکھتا ہے۔ وہ آدمی سے وسعت کا معاملہ فرماتا ہے نہ کہ خوردہ گیری کا۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی جب اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ از سر نو اس کو اپنی رحمت کے سایہ میں لے لیتا ہے۔ خواہ اس سے کتنا ہی بڑا قصور کیوں نہ ہو گیا ہو۔ یہ ایک عظیم خوش خبری ہے۔ یہ انسان کو ناامیدی کے غار سے نکال کر امید کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ خدا کو ایک پر ہیبت آقا کی نظر سے نہ دیکھے بلکہ ایک ایسے شفیق خدا کی نظر سے دیکھے جس نے یہ لکھ دیا ہے کہ اس کے غضب پر اس کی رحمت غالب رہے گی۔ یہ اعلان آدمی کے لئے خدا کو اس کے شوق و محبت کا مرکز بنا دیتا ہے۔ عبادت الہی اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔ آسمان اور زمین کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں اور جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔ کہو کہ اے ہیں۔ اور بن تو یوں کے الہٰی ایھوں کا انکار لیاں ہی ھاتے ہیں رہنے والے ہیں۔ ہو لے اے نادانو ، کیا تم مجھ کو غیر اللہ کی عبادت کرنے کے لئے کہتے ہو۔ اور تم سے پہلے والوں کی طرف بھی وحی بھیجی جاچکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو جائے گا۔ اور تم خسارہ میں رہو گے۔ بلکہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور شکر کرنے والوں میں سے بنو۔ (الزمر ۶۲ - ۶۶) کائنات کی موجودگی اس کے خالق کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح کائنات جتنے با معنی اور جس قدر منظم طور پر چل رہی ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہر آن ایک نگرانی کرنے والا اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے تو وہ کائنات میں اس کے خالق کی نشانی پالے گا اور اسی طرح اس کے ناظم اور مدبر کی نشانی بھی۔ ایسی حالت میں جو لوگ ایک خدا کے سوا دوسری ہستیوں کے عبادت گزار بنتے ہیں وہ ایک ایسا عمل کر رہے ہیں جس کی موجودگی کا کائنات میں کوئی قیمت نہیں۔ کیوں کہ خالق اور وکیل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader