مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
جب صرف ایک ہے تو اسی کی عبادت آدمی کو نفع دے سکتی ہے۔ اس کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا گویا ایسے معبود کو پکارنا ہے جس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔ عظمت الہی اور لوگوں نے اللہ کی قدر نہ جیساکہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ اور زمین ساری اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور تمام آسمان لپٹے ہوں گے اس کے دہنے ہاتھ میں۔ وہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ اور صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے۔ مگر جس کو اللہ چاہے ۔ پھر دوبارہ اس میں پھونکا جاۓ گا تو یکا یک سب اٹھ کر دیکھنے لگیں گے اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی۔ اور کتاب رکھ دی جائے گی اور پیغمبر اور گواہ حاضر کئے جائیں گے۔ اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور وہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں (الزمر ۳۹:۷۴) اکثر گمراہیوں کی جڑ خدا کا کمتر اندازہ ہے۔ آدمی دوسری عظمتوں میں اس لئے گم ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی اتھاہ عظمت کا پتہ نہیں۔ وہ اپنے اکابر سے وابستگی کو نجات کا ذریعہ سمجھتا ہے تو اس لئے سمجھتا ہے کہ اس کو معلوم نہیں کہ خدا اس سے زیادہ بڑا ہے کہ وہاں کوئی شخص اپنی زبان کھولنے کی جرأت کر سکے۔ قیامت جب لوگوں کی آنکھ کا پردہ ہٹائے گی تو ان کو معلوم ہو گا کہ خدا تو اتنا عظیم تھا جیسے کہ زمین ایک چھوٹے سکے کی طرح اس کی مٹھی میں ہو اور آسمان ایک معمولی کاغذ کی طرح اس کے ہاتھ میں لپٹا ہوا ہو۔ جس طرح امتحان ہال میں امتحان کے ختم ہونے پر الارم بجتا ہے اسی طرح موجودہ دنیا کی مدت ختم ہونے پر صور پھونکا جائے گا۔ اس کے بعد سارا نظام بدل جائے گا۔ اس کے بعد ایک نئی دنیا بنے گی۔ ہماری موجودہ دنیا سورج کی روشنی سے روشن ہوتی ہے۔ جو صرف محسوس مادی اشیاء

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader