Urdu book · مطالعہ قرآن

عظمت الہی

Urdu book, p. 177

By Maulana Wahiduddin Khan

کو ہمیں دکھائی پاتی ہے۔ آخرت کی دنیا براہ راست خدا کے نور سے روشن ہوگی۔ اس لئے وہاں یہ ممکن ہو گا کہ معنوی حقیقتوں کو بھی کھلی آنکھ سے دیکھا جا سکے۔ اس وقت تمام لوگ خدا کی عدالت میں حاضر کئے جائیں گے۔ دنیا میں لوگوں نے پیغمبروں کو اور ان کی تبعیت میں اٹھنے والے داعیوں کو نظر انداز کیا تھا۔ مگر آخرت میں لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ لوگوں کے مستقبل کا فیصلہ وہاں اسی بنیاد پر کیا جارہا ہے کہ کس نے ان کا ساتھ دیا اور کس نے ان کا انکار کر دیا۔ 40-142 خدا اور انسان اور ان کو قریب آنے والی مصیبت کے دن سے ڈراؤ جب کہ دل حلق تک آپہنچیں گے، وہ تم سے بھرے ہوئے ہوں گے۔ ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارش کی بس کی بات مانی جائے۔ وہ نگاہوں کی چوری کو جانتا ہے اور ان باتوں کو بھی جن کو سینے چھپائے ہوئے ہیں۔ اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ اور جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کرتے۔ بے شک اللہ سننے والا ہے، دیکھنے والا ہے (المومن ۱۸-۲۰) موجودہ دنیا میں انسان کو ہر طرح کے مواقع حاصل ہیں۔ وہ آزاد ہے کہ جو چاہے کرے۔ اس سے آدمی غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے۔ وہ اپنی موجودہ عارضی حالت کو مستقل حالت سمجھ لیتا ہے۔ حالاں کہ یہ مواقع جو انسان کو ملے ہیں وہ بطور امتحان ہیں نہ کہ بطور استحقاق۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی موجودہ تمام مواقع اس سے چھن جائیں گے۔ اس وقت انسان کو معلوم ہوگا کہ اس کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہیں جس کے سہارے وہ کھڑا ہو سکے۔ آدمی چاہتا ہے کہ بے قید زندگی گزارے۔ اسی مزاج کی وجہ سے آدمی غیر خدا کو بطور خود خدائی میں شریک بناتا ہے۔ تاکہ اس کے نام پر وہ اپنی بے راہ روی کو جائز ثابت کر سکے۔ مگر قیامت میں جب حقیقت بے پردہ ہو کر سامنے آئے گی تو آدمی جان لے گا کہ یہاں خدا کے سوا کوئی نہ تھا جس کو کسی قسم کا اختیار حاصل ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page