تاریخ کی گواہی
Urdu book, p. 178
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ کی گواہی کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ وہ ان سے بہت زیادہ تھے قوت میں اور ان آثار کے اعتبار سے بھی جو انہوں نے زمین میں چھوڑے۔ پھر اللہ نے ان کے گناہوں پر ان کو پکڑ لیا۔ اور کوئی ان کو اللہ سے بچانے والا نہ تھا۔ یہ اس لئے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے انکار کیا۔ تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔ یقیناً وہ طاقت ور ہے سخت سزا دینے والا ہے۔ (المومن ۲۱-۲۲) دنیا کی تاریخ میں کثرت سے ایسے واقعات ہیں کہ ایک قوم ابھری اور پھر مٹ گئی۔ ایک قوم بس نے زمین پر شاندار تمدن کھڑا کیا آج اس کا تمدن کھنڈر کی صورت میں زمین کے نیچے دبا ہوا پڑا ہے۔ ایک قوم جس کو کسی وقت ایک زندہ واقعہ کی حیثیت حاصل تھی، آج وہ صرف ایک تاریخی واقعہ کے طور پر قابل ذکر سمجھی جاتی ہے۔ اس قسم کے واقعات لوگوں کے لئے معلوم واقعات ہیں۔ مگر لوگوں نے ان واقعات کو ارضی حوادث یا سیاسی انقلابات کے خانہ میں ڈال رکھا ہے۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ سب خدائی فیصلے تھے جو سچائی کے انکار کے نتیجہ میں ان قوموں پر نازل ہوئے۔ اگر ہم کو وہ نگاہ حاصل ہو جس سے ہم معنوی حقیقتوں کو دیکھ سکیں تو ہم کو نظر آئے گا کہ ہر واقعہ خدا کے فرشتوں کے ذریعہ انجام پا رہا تھا، اگرچہ بظاہر دیکھنے والوں کو وہ دنیوی اسباب کے تحت ہوتا ہوا دکھائی دیا۔ 41-144 کائنات کا جواب کہو کیا تم لوگ اس ہستی کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں بنایا۔ اور تم اس کے ہمسر ٹھہراتے ہو۔ وہ رب ہے تمام جہان والوں کا اور اس نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بنائے اور اس میں فائدہ کی چیزیں رکھ دیں۔ اور اس میں اس کی غذائیں ٹھہرادیں چار دن میں۔ پورا ہو پوچتھے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader