Urdu book · مطالعہ قرآن

اسبابِ نزول کی روایات

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

بے حد اہمیت رکھتی ہیں۔ ان سے مختلف احکام کے نزول کا پس منظر معلوم ہوتا ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ پس منظر کو جانے بغیر کسی کلام کو درست طور پر سمجھا نہیں جا سکتا۔ اس معاملہ کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے۔ راقم الحروف کی تحریریں مسلسل طور پر انٹرنیٹ پر آ رہی ہیں۔ جون ٢٠٠٠ میں میرے کچھ مضامین انٹرنیٹ پر آئے جن میں موجودہ مسلمانوں کو قرآن کی روشنی میں یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ صبر و اعراض کی روش اختیار کرتے ہوئے دعوت کا کام کریں۔ اس کے بعد مجھے ایک "مسلم مجاہد" کا انٹرنیٹ پر شدید رد عمل ملا۔ انہوں نے غصہ کے انداز میں کہا تھا کہ دیکھو، یہ ہندوستانی مولانا ہم سے کہتا ہے کہ تم لوگ صبر کرو۔ جب کہ قرآن کہہ رہا ہے کہ تم لوگ جنگ کرو(قاتلوا ائمۃ الکفر الخ)۔ التوبہ ۱۲-۱۳ اس کے جواب میں میں نے مذکورہ مجاہد بھائی کو لکھا کہ میں نے جو باتیں لکھی ہیں وہ اپنی طرف سے نہیں لکھی ہیں بلکہ ان کے لئے خود قرآن کے حوالے دئے ہیں۔ پھر میں نے بتایا کہ اصل مسئلہ کیا ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے لکھا کہ آج جس طرح قرآن آپ کے ہاتھ میں ایک مجلد کتاب کی صورت میں ہے، اسی طرح اگر وہ اول دن سے موجود ہوتا تو یہی صورت حال غالباً دور اول میں بھی پیش آتی۔ چنانچہ مکہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے کہ اے مسلمانو، صبر کرو تو آپ جیسے کوئی صاحب قرآن کی ایک جلد لے کر کھڑے ہوتے اور کہتے کہ دیکھو، محمد ہم کو صبر کی نصیحت کر رہے ہیں اور قرآن صاف لفظوں میں کہہ رہا ہے کہ ظالموں سے جنگ کرو، (الحج ٣٩)۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ میں قریش کے مشرک لیڈروں سے صلح کر رہے تھے تو وہاں بھی کوئی صاحب مکمل قرآن اپنے ہاتھ میں لے کر کہتے کہ دیکھو، محمد ہم سے کہتے ہیں کہ کافروں سے صلح کر لو جب کہ قرآن بر عکس طور پر یہ کہہ رہا ہے کہ ان سے جنگ کر کے ان کا فتنہ ختم کرو۔ (الانفال ٣٩) دور اول میں اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا پھر موجودہ زمانہ میں کیوں ایسا ہو رہا ہے۔ اس عجیب صورت حال کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں اور بعد کے زمانہ میں ایک بنیادی فرق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page