تاریخ کی گواہی
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا۔ حالانکہ خواہ سورج اور چاند ہوں یا دوسرے مظاہر، سب کے سب خدا کی مخلوق ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ خالق کا پرستار بنے نہ کہ اس کی مخلوق کا۔ تکبر کرنے والوں کا تکبر دعوت کے مقابلہ میں نہیں ہوتا، بلکہ وہ ہمیشہ داعی کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔ وقت کے بڑوں کو بظاہر داعی اپنے سے چھوٹا نظر آتا ہے اس لئے وہ اس کو چھوٹا سمجھ لیتے ہیں اور اسی کے ساتھ اس کی طرف سے پیش کئے جانے والے پیغام کو بھی۔ 41-147 بارش کی مثال اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تم زمین کو فرسودہ حالت میں دیکھتے ہو پھر جب ہم اس پر پانی برساتتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھول جاتی ہے۔ بے شک جس نے اس کو زندہ کر دیا وہ مردوں کو بھی زندہ کر دینے والا ہے۔ بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو لوگ ہماری آیتوں کو الٹے معنی پہناتے ہیں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ کیا جو آگ میں ڈالا جائے گا وہ اچھا ہے یا وہ شخص جو قیامت کے دن امن کے ساتھ آئے گا۔ جو کچھ چاہے کر لو۔ بے شک وہ دیکھتا ہے جو تم کر رہے ہو۔ (حم السجدہ ۳۹۔ ۴۰) سوکھی زمین میں بارش کا برسنا اور اس سے سبزہ کا اگنا ایک ایسا مظہر ہے جو ہر آدمی کے سامنے بار بار آتا ہے۔ یہ ایک معنوی حقیقت کی مادی تمثیل ہے۔ اس طرح انسان کو بتایا جاتا ہے کہ خدا نے یہاں اس کے خشک وجود کو سر سبز و شاداب کرنے کا وسیع انتظام کر رکھا ہے۔ زمین کی مٹی پانی کو اپنے اندر جذب کرتی ہے اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ بارش اس کو سر سبز و شاداب کرنے کا ذریعہ بنے۔ اسی طرح انسان اگر خدا کی ہدایت کو اپنے اندر اترنے دے تو اس کا وجود بھی ہدایت پا کر لہلہا اٹھے گا۔ خدا کی ہدایت سے فیض یاب نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انسان خدا کی باتوں میں الحاد (انحراف) کرتا ہے۔ خدا کی رہنمائی اس کے سامنے آتی ہے تو وہ اس کو سیدھے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader