Urdu book · مطالعہ قرآن

تاریخ کی گواہی

Urdu book, p. 185

By Maulana Wahiduddin Khan

شخص دنیا کی کھیتی چاہے ہے ہم اس کو اس میں سے کچھ دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ۔(الشوریٰ ۱۹-۲۰) دنیا کی زندگی امتحان کے لئے ہے۔ یہاں ہر آدمی کو بقدر امتحان ضروری اسباب دئے جاتے ہیں۔ اب جو شخص آخرت پسند ہو وہ موجودہ دنیا کے اسباب کو آخرت کی تعمیر کے لئے استعمال کرے گا اور اس کے نتیجہ میں آخرت میں مزید اضافہ کے ساتھ اپنا انعام پائے گا۔ اس کے بر عکس جو شخص دنیا پسند ہو وہ صرف موجودہ دنیا کے پیش نظر عمل کرے۔ ایسا شخص موجودہ دنیا میں اپنی محنتوں کا پھل پا سکتا ہے۔ مگر آخرت میں وہ سراسر محروم رہے گا۔ جب اس نے آخرت کے لئے کچھ کیا ہی نہ تھا تو کیسے ممکن ہے کہ آخرت میں اس کو کچھ دیا جائے۔ ایمان کی صفات اور وہ لوگ جو بڑے گناہوں سے اور بے حیائی سے بچتے ہیں اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں اور جنہوں نے اپنے رب کی دعوت کو قبول کیا اور نماز قائم کیا اور وہ اپنا کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہیں۔ اور ہم نے جو کچھ انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور وہ لوگ کہ جب ان پر چڑھائی ہوتی ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔ اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی۔ پھر جس نے معاف کر دیا اور اصلاح کی تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ بیشک وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو شخص اپنے مظلوم ہونے کے بعد بدلہ لے تو ایسے لوگوں کے اوپر کچھ الزام نہیں۔ الزام صرف ان پر ہے جو لوگوں کے اوپر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اور جس شخص نے صبر کیا اور معاف کر دیا تو بے شک یہ ہمت کے کام ہیں۔ (الشوریٰ ۳۷-۴۳) ایمان جب حقیقی معنوں میں کسی کو حاصل ہوتا ہے تو وہ اس کے اندر انقلاب پیدا کر دیتا ہے۔ اس کے اندر ایک نئی شخصیت ابھرتی ہے۔ یہاں بندۂ خدا کی جن خصوصیات کا ذکر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page