تاریخ کی گواہی
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے وہ سب وہی ہیں جو اس ایمانی شخصیت کے نتیجے میں کسی کے اندر ظاہر ہوتی ہیں۔ ایسے شخص کے اندر حقیقت واقعہ کے اعتراف کا مزاج پیدا ہوتا ہے۔ وہ خدا کے خدا ہونے اور اپنے بندہ ہونے کی حیثیت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے آگے جھک جاتا ہے۔ خدا کی ایک پکار بلند ہو تو اس کے لئے ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ اس پر لبیک نہ کہے۔ ایمانی شعور اس کو صحیح اور غلط کے بارہ میں حساس بنا دیتا ہے۔ وہ وہی کرتا ہے جو کرنا چاہئے اور وہ نہیں کرتا جو نہیں کرنا چاہئے۔ اپنی حیثیت واقعی کا اعتراف اس کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے جو اس سے غصہ ظلم اور سرکشی کا مزاج چھین لیتا ہے۔ یہی تواضع اس کو مجبور کرتا ہے کہ اجتماعی معاملات میں وہ دوسروں کے مشورہ سے فائدہ اٹھائے وہ محض اپنی ذاتی رائے کی بنیاد پر اقدام سے پرہیز کرے۔ دوسروں کے ساتھ اس کا رشتہ خیر خواہی کا ہوتا ہے۔ نہ کہ ضد اور استحصال کا۔ ایسا آدمی دوسروں کے خلاف کبھی جارحیت نہیں کرتا۔ دوسروں کے خلاف وہ جب بھی اقدام کرتا ہے تو دفاع کے طور پر کرتا ہے اور اتنا ہی کرتا ہے جتنا ان کے ظلم کو روکنے کے لئے ضروری ہو۔ وہ عین اشتعال انگیز حالات میں بھی اس کے لئے تیار رہتا ہے کہ لوگوں کو معاف کر دے اور انہوں نے اس کے ساتھ جو برائی کی ہے اس کو بھول جائے۔ بندہ مومن یہ سارے کام اپنے جذبہ ایمان کے تحت کرتا ہے تاہم اللہ اس کی قدر دانی اس طرح فرماتا ہے کہ اس کو اہل ہمت اور العزم کے خطاب سے نوازتا ہے۔ اور اس کو ابدی نعمتوں کے باغ میں داخل کر دیتا ہے۔ 43-153 پیغمبروں کی تاریخ کیا ہم تمہاری نصیحت سے اس لئے صرف نظر کر لیں گے کہ تم حد سے گزرنے والے ہو اور ہم نے اگلے لوگوں میں کتنے ہی نبی بھیجے۔ اور ان لوگوں کے پاس کوئی نبی نہیں آیا جس کا انہوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader