تاریخ کی گواہی
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
نے مذاق نہ اڑایا ہو۔ پھر جو لوگ ان سے زیادہ طاقت ور تھے ان کو ہم نے ہلاک کر دیا۔ اور اگلے لوگوں کی مثالیں گذر چکیں (الزخرف ۵-۸) آج دنیا میں بے شمار ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو پچھلے پیغمبروں کا نام عزت کے ساتھ لیتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ ان پیغمبروں کا (بشمول پیغمبر اسلام) ان کے ہم زمانہ لوگوں نے مذاق کیوں اڑایا۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ پچھلے لوگ وحشی تھے اور آج کے لوگ مہذب ہیں۔ یہ صرف زمانہ کا فرق ہے۔ آج لمبی مدت گزرنے کے بعد ہر پیغمبر کے ساتھ تاریخی عظمت کا زور شامل ہو چکا ہے۔ اس لئے آج ہر ظاہر ہیں پیغمبر کو پہچان لیتا ہے۔ مگر پیغمبر اپنی زندگی میں اس پر عظمت تاریخ کے بغیر تھا اور اِس دُور و دراز زمانہ کے لوگو ں کو صرف ایک عام انسان نظر آتا تھا، اس وقت... مارش کے بغیر تھا ، اس لیے وہ اپنے زمانہ کے لوگوں کو صرف ایک عام انسان نظر آ رہا تھا۔ اس وقت پیغمبر کی پیغمبرانہ حیثیت کو پہچاننے کے لئے حقیقت میں نگاہ درکار تھی۔ اور بلاشبہ حقیقت میں نگاہ دنیا میں ہمیشہ سب سے کم پائی گئی ہے۔ دعوت حق کے مخاطبین خواہ مخواہ کتناہی غلط رویہ اختیار کریں، داعی یک طرفہ طور پر صبر دعوت کے لئے مسلسل زیادہ محتاط رویہ اختیار کریں، دایاں ہاتھ سورہ پر صبر کرتے ہوئے اپنے دعوتی عمل کو جاری رکھتا ہے۔ تا آنکہ وہ وقت آجائے جب کہ خدا اپنی طرف سے دونوں کے درمیان کوئی فیصلہ فرمادے۔ 43-154 پیغمبر کا مقصد اور جب عیسیٰ کھلی نشانیوں کے ساتھ آئے۔ انھوں نے کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور تاکہ میں تم پر واضح کردوں بعض باتیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ بے شک اللہ ہی میرا رب ہے اور تمہارا رب بھی۔ تو تم اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔ پھر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ پس تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا، ایک دردناک دن کے عذاب سے۔ (الزخرف ۶۳-۶۵)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader