تاریخ کی گواہی
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں حکمت سے مراد دین کی روح ہے اور صراط مستقیم سے مراد وہی چیز ہے جس کو آیت میں خدا کا خوف ، اس کی عبادت اور رسول کی اطاعت کہا گیا ہے۔ یہی اصل دین ہے۔ یہود نے بعد کو یہ کیا کہ انہوں نے روح دین کھو دی اور دین کے بنیادی احکام میں موشگافیوں کے ذریعہ بے شمار نئے نئے مسائل پیدا کئے ۔ یہ مسائل آج بھی یہود کی کتابوں میں موجود ہیں۔ انہیں خود ساختہ اضافوں کی وجہ سے ان کے اندر اختلافی فرقے بنے۔ کسی نے ایک اختلافی مسئلہ پر زور دیا، کسی نے دوسرے اختلافی مسئلہ پر۔ اس طرح ان کے یہاں ایک دین کئی دین بن گیا۔ حضرت مسیح اس لئے آئے کہ وہ یہود کو بتائیں کہ دین میں اصل اہمیت روح کی ہے نہ کہ ظواہر کی ۔ اور یہ کہ آدمی کو نجات جس چیز پر ملے گی وہ اس دین کی پیروی پر ملے گی جو خدا نے بھیجا ہے نہ کہ اس دین پر جو تم لوگوں نے بطور خود و ضائع کر رکھا ہے۔ حضرت مسیح نے بتایا کہ اصل دین یہ ہے کہ تم اللہ سے ڈرو، صرف ایک اللہ کے عبادت گزار بنو، زندگی کے معاملات میں پیغمبر کے نمونہ کی پیروی کرو۔ اس کے سوا تم نے اپنی بحثوں اور موشگافیوں سے جو بے شمار مسائل بنا رہے تھے وہ تمہارے اپنے اضافے ہیں۔ ان اضافوں کو چھوڑ کر اصل دین پر قائم ہو جاؤ۔ حضرت مسیح کی یہ باتیں آج بھی کسی نہ کسی صورت میں انجیلوں میں موجود ہیں۔ 43-155 شفاعت کا تصور اور اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سفارش کا اختیار نہیں رکھتے، مگر وہ حق کی گواہی دیں گے اور وہ جانتے ہوں گے۔ اور اگر ان سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا تو وہ یہی کہیں گے کہ اللہ نے۔ پھر وہ کہاں بھٹک جاتے ہیں۔ اور اس کے رسول کے اس کہنے کی خبر ہے کہ اے میرے رب، یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ پس ان سے درگزر کرو اور کہو کہ سلام ہے تم کو، عنقریب ان کو معلوم ہو جائے گا۔ (الزخرف ۸۶۔۸۹) قیامت میں پیغمبر اور داعیانِ حق جو شفاعت کریں گے وہ حقیقۂ شفاعت نہیں ہے بلکہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader