Urdu book · مطالعہ قرآن

تاریخ کی گواہی

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

شہادت ہے۔ یعنی ایسی بات کی گواہی دینا جس کو آدمی ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ آخرت میں جب لوگوں کا مقدمہ پیش ہوگا تو سارے علم کے باوجود اللہ مزید تائید کے طور پر ان لوگوں کو کھڑا کرے گا جو قوموں کے ہم عصر تھے۔ انہوں نے ان کے سامنے حق کا پیغام پیش کیا۔ پھر کسی نے مانا اور کسی نے نہیں مانا۔ کسی نے حق کا ساتھ دیا اور کوئی حق کا مخالف بن کر کھڑا ہو گیا۔ یہی تجربہ جوان صالحین پر براہ راست گزرا اس کو وہ خدا کے سامنے پیش کریں گے۔ یہ ایسا ہی ہو گا جیسے کہ کوئی گواہ عدالت میں اپنے مشاہدے کی بنیاد پر ایک سچا بیان دے۔ اس کے سوا کسی کو قیامت میں یہ اختیار حاصل نہ ہوگا کہ وہ کسی مجرم کا شافع بن کر کھڑا ہو اور اس کے بارے میں اس خدائی فیصلہ کو بدل دے جو از روئے واقعہ اس کے بارے میں ہونے والا تھا۔ خدا اس سے بہت بلند ہے کہ اس کے حضور کوئی شخص ایسا کرنے کی کوشش کرے ۔ دعوت حق کا کام سراسر نصیحت کا کام ہے۔ آخری مرحلہ میں جب کہ داعی پر یہ واضح ہو جائے کہ لوگ کسی طرح ماننے والے نہیں ہیں، اس وقت بھی داعی لوگوں کے لئے خدا سے دعا کرتا ہے۔ لوگوں کی ایذاء رسانی پر صبر کرتے ہوئے وہ لوگوں کا خیر خواہ رہتا ہے۔ کائنات کی معنویت اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر نہیں۔ ان کو ہم نے حق کے ساتھ بنایا ہے۔ لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ بے شک فیصلہ کا دن ان سب کا طے شدہ وقت ہے۔ جس دن کوئی رشتہ دار کسی رشتہ دار کے کام نہیں آئے گا اور نہ ان کی کچھ حمایت کی جائے گی۔ ہاں مگر وہ جس پر اللہ رحم فرمائے بے شک وہ زبردست ہے، رحمت والا ہے۔ (الدخان ۳۸-۴۲) زمین و آسمان کے نظام پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تخلیق نہایت با معنی انداز میں ہوئی ہے۔ پوری کائنات ایک مقصد کے تحت عمل کرتی ہے۔ کائنات کے نظام میں اگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page