اسبابِ نزول کی روایات
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن نجماً نجماً ۲۳ سال کی مدت میں اترا۔ مکہ میں ابتداے رسالت سے لے کر مدینہ میں آپ کی وفات تک مختلف اور متنوع قسم کے حالات پیش آتے رہے۔ چنانچہ حالات کی نسبت سے اس وقت جو ہدایت مطلوب ہوتی وہ قرآن میں بروقت نازل کردی جاتی۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن کی اس آیت میں کہی گئی ہے: و قرآناً فرقنه لتقرأه على الناس على مكث ونزله تنزيلاً (بنی اسرائیل (۱۰۶) گویا دورِ اول میں یہ صورتِ حال تھی کہ جب اور جس وقت جو عمل مطلوب ہو تا اس سے مطابقت رکھنے والی آیت پیغمبر اسلام ﷺ کے پاس بھیج دی جاتی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس وقت نزولِ حکم اور اس کے عملی انطباق کے درمیان کوئی فرق یا فاصلہ موجود نہ تھا۔ مگر اس کے بعد یہ ہوا کہ ۲۳ سال میں وقفہ وقفہ سے اتری ہوئی آیتیں اور سورتیں ایک واحد کتاب کی شکل میں مرتب کر کے بیک وقت اہلِ اسلام کو دے دی گئیں۔ اب یہی کامل نسخہ بعد کے مسلمانوں کے پاس ہے۔ اب یہ سوال ہے کہ حکم اور انطباق کے درمیان فرق کے اس مسئلہ کو کس طرح حل کیا جائے۔ اسبابِ نزول یا شانِ نزول کی روایات اسی کا جواب ہیں۔ اب ہمیں یہ کرنا ہے کہ اسبابِ نزول کی روشنی میں آیتوں کا مطالعہ کر کے اس مخصوص حالت یا پس منظر (background) کو دریافت کریں جو آیت کے ابتدائی نزول کے وقت مکہ اور مدینہ میں موجود تھا۔ اور پھر قدیم حالت اور موجودہ حالت کے درمیان مشابہت (similarity) کو دریافت کر کے یہ سمجھے کہ کس طرح کی صورتِ حال میں کون سی آیت قابلِ انطباق (applicable) ہے اور کون سی آیت قابلِ انطباق نہیں۔ اسی حکمتِ تشریع کی روشنی میں فقہ کا یہ اصول وضع ہوا ہے کہ تتغیر الاحکام بتغیر الزمان و المكان، یعنی دوسرے لفظوں میں یہ کہ احکام کے انطباق کا تعین خود حالات کی نوعیت سے ہوتا ہے نہ کہ محض حکم کے الفاظ سے۔ یہ ایک بے حد اہم بات ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ طریقہ درست نہیں کہ آدمی قرآن کی ایک آیت لے کر کہے کہ دیکھو قرآن میں یہ حکم موجود ہے اور ہمیں اس پر عمل کرنا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader