Urdu book · مطالعہ قرآن

تاریخ کی گواہی

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ معنویت نہ ہو تو اس دنیا میں انسان کے لئے شاندار تمدن کی تعمیر نا ممکن ہو جائے۔ آخرت کا عقیدہ کائناتى معنویت کی توسیع ہے۔ جو کائنات اتنے بامعنی انداز میں بنائی گئی ہو، نا ممکن ہے کہ وہ سراسر بے معنی طور پر ختم ہو جائے۔ کائنات کی موجودہ معنویت اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ ایک با معنی اور بامقصد انجام پر ختم ہونے والی ہے۔ آخرت اسی با معنی اور بامقصد انجام کا دوسرا نام ہے۔ دنیا کا موجودہ مرحلہ آزمائش کا مرحلہ ہے۔ اس لئے آج دنیا کی معنویت میں ہر آدمی اپنا حصہ پارہا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو اس وقت کی معنویت میں صرف ان لوگوں کو حصہ ملے گا جو خدا کے نزدیک فی الواقع اس کے مستحق قرار پائیں۔ جنت کی دنیا بے شک خدا سے ڈرنے والے امن کی جگہ میں ہوں گے۔ باغوں اور چشموں میں۔ باریک ریشم اور دبیز ریشم کے لباس پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ یہ بات اسی طرح ہے، اور ہم ان سے بیاہ دیں گے حوریں بڑی بڑی آنکھ والی۔ وہ اس میں طلب کریں گے ہر قسم کے میوے نہایت اطمینان سے۔ وہ وہاں موت کو نہ چکھیں گے مگر وہ موت جو پہلے آچکی ہے اور اللہ نے ان کو جہنم کے عذاب سے بچالیا۔ یہ تیرے رب کے فضل سے ہوگا، یہی ہے بڑی کامیابی (الدخان ۵۱-۵۷) ان الفاظ میں انسان کی پسند کی اس دنیا کی تصویر ہے جو اس کے خوابوں میں بسی ہوئی ہے۔ ہر آدمی اپنی پسند کی اس دنیا کو پانا چاہتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں وہ اس کو حاصل نہیں کرتا۔ یہ خوابوں کی دنیا مزید اضافہ کے ساتھ اس کو جنت میں حاصل ہو جائے گی۔ ہر قسم کے ڈر سے خالی یہ دنیا ان لوگوں کو ملے گی جو دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہے۔ ابدی نعمتوں سے بھری ہوئی یہ زندگی ان کا حصہ ہوگی جنہوں نے اس کی خاطر دنیا کی وقتی نعمتوں کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page