تاریخ کی گواہی
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
قربان کیا تھا۔ آخرت کی اس عظیم کامیابی میں وہ لوگ داخل ہوں گے جنہوں نے اس کو پانے کے لئے اپنی دنیا کی کامیابی کو خطرہ میں ڈالنے کا حوصلہ کیا تھا۔ قرآن کا دعویٰ یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے۔ اللہ غالب، حکمت والے کی طرف سے۔ بے شک آسمانوں اور زمین میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لئے۔ اور تمہارے بنانے میں اور ان حیوانات میں جو اس نے زمین میں پھیلا ر کھے ہیں۔ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں اور رات اور دن کے آنے جانے میں اور اس رزق میں جس کو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس سے زمین کو زندہ کر دیا اس کے مر جانے کے بعد ، اور ہواؤں کی گردش میں بھی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کی آیتیں ہیں جن کو ہم حق کے ساتھ تمہیں سنا رہے ہیں۔ پھر اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد کون سی بات ہے جس پر وہ ایمان لائیں گے۔ (الجاثیہ ۱-۶) قرآن کا یہ کہنا کہ یہ کتاب عزیز و حکیم خدا کی طرف سے اتری ہے، گویا خود اپنی طرف سے ایک ایسا قطعی معیار دیتا ہے جس پر قرآن کی صداقت کو جانچا جا سکے۔ خدائے عزیز کی طرف سے اس کے اترنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی اس کتاب کو زیر نہ کر سکے گا۔ قرآن ہر حال میں اپنے مخالفین پر غالب آکر رہے گا۔ یہ بات مکی دور میں کہی گئی تھی۔ اس وقت حالات سراسر قرآن کے خلاف تھے۔ مگر بعد کی تاریخ نے حیرت انگیز طور پر اس کی تصدیق کی۔ قرآن کی دعوت کو تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ اسی طرح خدائے حکیم کی طرف سے اترنے کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کے مضامین سب کے سب عقل و دانش پر مبنی ہوں۔ یہ بات بھی تقریباً ڈیڑھ ہزار سال سے مسلسل درست ثابت ہوتی جارہی ہے، قرآن دور سائنس سے پہلے اترا۔ مگر دور سائنس میں بھی قرآن کی کوئی بات عقل کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader