تاریخ کی گواہی
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
خلاف ثابت نہ ہو سکی۔ اس کے علاوہ جو کائنات انسان کے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے، اس کی تمام چیزیں قرآن کے پیغام کی تصدیق بن گئی ہیں۔ تاہم یہ تصدیق صرف ان لوگوں کے لئے تصدیق بنے گی جن کے اندر یقین کرنے کا ذہن ہو، جو نشانیوں کی زبان میں ظاہر کی جانے والی بات کو پانے کی استعداد رکھتے ہوں۔ 45-159 حق کو نظر انداز کرنا خرابی ہے ہر شخص کے لئے جو جھوٹا ہو۔ جو خدا کی آیتوں کو سنتا ہے جب کہ وہ اس کے سامنے پڑسی جاتی ہیں پھر وہ تلبہ کے ساتھ اُترتا ہے، گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں۔ پس ہم اس کو ایک دردناک عذاب کی خوش خبری دے دو۔ اور جب وہ ہماری آیتوں میں سے کسی چیز کی خبر پاتا ہے تو وہ اس کو مذاق بنا لیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔ ان کے آگے جہنم ہے۔ اور جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کے کچھ کام آنے والا نہیں۔ اور نہ وہ جن کو انہوں نے اللہ کے سوا کار ساز بنایا۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ یہ ہدایت ہے، اور جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا ان کے لئے سختی کا دردناک عذاب ہے۔ (الجاثیہ ۷۔۱۱) حق کا اعتراف اکثر حالات میں اپنی بڑائی کو کھونے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ آدمی اپنی بڑائی کو کھونا نہیں چاہتا۔ اس لئے وہ حق کا اعتراف بھی نہیں کرتا۔ مگر حق کے آگے نہ جھکنا خدا کے آگے نہ جھکنا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے خدا کے یہاں سخت ترین عذاب ہے۔ آدمی اگر چہ تکبر کی بنا پر حق سے اعراض کرتا ہے تاہم اپنے رویہ کے جواز کے لئے وہ نظریاتی دلیل پیش کرتا ہے۔ مگر اس دلیل کی حقیقت جھوٹی لفظی توجیہہ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ایسا آدمی کسی چیز کو غلط مفہوم دے کر اس کو شوشہ بناتا ہے۔ وہ اس شوشہ کی بنیاد پر حق کا اور اس کے داعی کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ ایسے لوگ سخت ترین عذاب کے مستحق ہیں۔ کیوں کہ وہ اپنی بد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader