مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
عملی پر سرکشی کا اضافہ کر رہے ہیں۔ اس سرکشی پر انہیں جو چیز آمادہ کرتی ہے وہ ان کی دنیوی حیثیت ہے۔ مگر کسی کی دنیوی حیثیت آخرت میں اس کے کچھ کام آنے والی نہیں۔ 45-160 تسخیر کائنات اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے سمندر کو مسخر کر دیا تا کہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔ اور اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کر دیا، سب کو اپنی طرف سے۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور کرتے ہیں (الجاثیہ ۱۲۔۱۳) پانی بظاہر ڈبانے والی چیز ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے قوانین کا پابند بنایا ہے کہ اتھاہ سمندروں کے اوپر بڑے بڑے جہاز ایک طرف سے دوسری طرف چلتے ہیں اور بحفاظت اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہی معاملہ پوری کائنات کا ہے۔ کائنات اسی طرح بنائی گئی ہے کہ وہ پوری طرح انسان کے تابع ہے۔ انسان جس طرح چاہے اس کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ موجودہ دنیا کی یہی خصوصیت ہے جس کی بنا پر یہ ممکن ہوا ہے کہ یہاں انسان اپنے لئے شاندار تمدن کی تعمیر کر سکے۔ کائنات کا موجودہ ڈھانچہ ہی اس کا آخری اور واحد ڈھانچہ ہے۔ وہ دوسرے بے شمار طریقوں سے بھی بن سکتی تھی۔ مگر مختلف امکانات میں سے وہی ایک امکان واقعہ بنا جو ہمارے لئے مفید تھا۔ یہ ایک نشانی ہے جس میں غور کرنے والے غور کریں تو وہ اس میں اپنے لئے عظیم الشان سبق پا سکتے ہیں۔ 45-161 با معنی انجام کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader