Urdu book · مطالعہ قرآن

تسخیر کائنات

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

کی مانند کر دیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیا۔ ان سب کا جینا اور مرنا یکساں ہو جائے ۔ بہت برا فیصلہ ہے جو وہ کر رہے ہیں۔ اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا اور تا کہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائے اور ان پر کوئی ظلم نہ ہو گا۔ (الجاثیہ ۲۱ ۔ ۲۲) جو شخص یہ خیال کرے کہ آدمی اچھا بن کر رہے یا برا بن کر، سب برابر ہے۔ آخرکار دونوں ہی کو مر کر مٹ جانا ہے، ایسا آدمی نہایت بے بنیاد خیال اپنے دماغ میں قائم کرتا ہے۔ ایسا سمجھنا اس شعور عدل کے خلاف ہے جو ہر آدمی کی فطرت میں پیدائشی طور پر موجود ہے۔ نیز یہ کائنات کی اس معنویت کا انکار کرنا ہے جو اس کے نظام کے اندر کمال درجہ میں پائی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اندرونی فطرت اور اس کے باہر کی وسیع کائنات دونوں اس کو سراسر آنے والا نہیں ۔ مجرمانہ ذہن پس جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے تو ان کا رب ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا یہی کھلی کامیابی ہے۔ اور جنہوں نے انکار کیا، کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ۔ پس تم نے تکبر کیا اور تم مجرم لوگ تھے۔ اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ حق ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے، ہم تو بس ایک گمان سار رکھتے ہیں، اور ہم اس پر یقین کرنے والے نہیں۔ (الجاثیہ ۳۰- ۳۲) تکبر سے مراد خدا کے مقابلہ میں تکبر نہیں ہے بلکہ خدا کے داعی کے مقابلہ میں تکبر ہے۔ خدا کی بات کو ماننا موجودہ دنیا میں بظاہر خدا کے داعی کی بات کو ماننے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اب جو لوگ تکبر میں مبتلا ہوں وہ اس کو اپنے مرتبہ سے کم تر سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے جیسے ایک انسان کی بات مان لیں۔ چنانچہ وہ اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ تکبر کی نفسیات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page