تسخیر کائنات
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
سے خالی ہوں وہ فوراً اس کے آگے جھک جاتے ہیں۔ پہلے گروہ کے لئے خدا کا غضب ہے اور دوسرے گروہ کے لئے خدا کی رحمت۔ ایک انسان جب حق کا انکار کرتا ہے تو اپنے انکار کو جائز ثابت کرنے کے لئے وہ طرح طرح کی باتیں کرتا ہے۔ وہ کبھی داعی کو نا قابل اعتماد ثابت کرتا ہے۔ کبھی داعی کے پیغام میں شک وشبہ کا پہلو نکالتا ہے۔ مگر قیامت کے دن کھل جائے گا کہ یہ سب مجرمانہ ذہن سے نکلی ہوئی باتیں تھیں نہ کہ حق پرستانہ ذہن سے نکلی ہوئی باتیں ۔ 46-163 علم کی دو قسمیں کہو کہ کیا تم نے ان چیزوں پر غور کیا جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کیا بنایا ہے۔ یا ان کا آسمان میں کچھ ساجھا ہے۔ میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب لے آؤ یا کوئی علم جو چلا آتا ہو، اگر تم سچے ہو۔ اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اس کا جواب نہیں دے سکتے۔ اور ان کو ان کے پکارنے کی بھی خبر نہیں۔ اور جب لوگ اکٹھا کئے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور وہ ان کی عبادت کے منکر بن جائیں گے۔ (الاحقاف ۴-۶) علم حقیقت صرف دو ہے۔ ایک الہامی علم (revealed knowledge)۔ یعنی وہ علم جو پیغمبروں کے ذریعہ سے انسانوں تک پہنچا۔ دوسرا ثابت شدہ علم (established knowledge) یعنی وہ علم جس کا علم ہونا انسانی تحقیقات اور تجربات سے ثابت ہو گیا ہو ان کو دوسرے لفظوں میں، نقلی علم اور عقلی علم کہہ سکتے ہیں۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی علم یہ نہیں بتاتا کہ اس کائنات میں ایک خدا کے سوا کوئی اور ہستی ہے جو خدائی کے لائق ہے۔ اور جب علم کے دو ذریعوں میں سے کوئی ذریعہ شرک کی گواہی نہ دے تو مشرکانہ عقیدہ انسان کے لئے کیوں درست ہو سکتا ہے۔ جو شخص خدا کو چھوڑ کر کسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader