آسمانی کتابیں
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
تھیں مہینے میں ہوا۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی کو پہنچا اور چالیس برس کو پہنچ گیا تو وہ کہنے لگا کہ اے میرے رب، مجھے توفیق دے کہ میں تیرے احسان کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر کیا اور میرے ماں باپ پر کیا اور یہ کہ میں وہ نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو۔ اور میری اولاد میں بھی مجھ کو نیک اولاد دے۔ میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ یہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال کو ہم قبول کریں گے اور ان کی برائیوں سے در گزر کریں گے۔ وہ اہل جنت میں سے ہوں گے۔ سچا وعدہ جو ان سے کیا جاتا تھا۔ (الاحقاف ۱۵-۱۶) انسانی نسل کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی ایک ماں اور ایک باپ کے ذریعہ وجود میں آتا ہے جو اس کی پرورش کر کے اس کو بڑا بناتے ہیں۔ یہ گویا انسان کی تربیت کا فطری نظام ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کے اندر حقوق اور فرائض کا شعور پیدا ہو۔ اس کے اندر یہ جذبہ پیدا ہو کہ اسے اپنے محسن کا احسان ماننا ہے اور اس کا حق ادا کرنا ہے۔ یہ جذبہ بیک وقت انسان کو دوسرے انسانوں کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اور اسی کے ساتھ خالق و مالک خدا کے عظیم تر حقوق کو ادا کرنے کی تعلیم بھی۔ جو لوگ فطرت کے معلم سے سبق لیں جو لوگ اپنے شعور کو اس طرح بیدار کریں کہ وہ اپنے والدین سے لے کر اپنے خدا تک ہر ایک کے حقوق کو پہچانیں اور ان کو ٹھیک ٹھیک ادا کریں۔ وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں خدا کی ابدی رحمتوں کے مستحق قرار دیئے جائیں گے۔ 46-166 طیبات دنیا، طیبات آخرت اور ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے اعتبار سے درجے ہوں گے۔ اور تا کہ اللہ سب کو ان کے اعمال پورے کردے اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔ اور جس دن انکار کرنے والے آگ کے سامنے لائے جائیں گے۔ تم اپنی اچھی چیزیں دنیا کی زندگی میں لے چکے اور ان کو برت چکے تو آج تم کو ذلت کی سزا دی جائے گی، اس وجہ سے کہ تم دنیا میں ناحق تکبر کرتے تھے اور اس وجہ سے کہ تم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader