Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بجائے یہ ہونا چاہئے کہ پہلے کسی وقت میں موجود صورت حال (given situation) کو بے لاگ طور پر سمجھا جائے اور پھر یہ معلوم کیا جائے کہ اس طرح کی صورت حال میں قرآن کا کون سا حکم قابل انطباق (applicable) ہے۔ خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب کے زمانہ میں کچھ لوگوں نے قرآن کی بعض آیتوں کو مطلق طور پر لے کر ان کے انطباق کا مطالبہ کیا جب کہ وہ آیتیں موجودہ کے لئے نہ تھیں۔ ایسے لوگوں کے خلاف سخت تبصرہ کرتے ہوئے خلیفہ چہارم نے کہا: کلمة حق اريد بها الباطل۔ یعنی بظاہر یہ لوگ قرآن کی آیتوں کا حوالہ دے رہے ہیں مگر وہ ان آیتوں کو غلط جگہ چسپاں کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے بظاہر اگرچہ وہ کلمہ حق پیش کر رہے ہیں مگر وہ سراسر باطل پر ہیں۔ معلوم ہوا کہ کسی عمل کے قرآنی ہونے کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ اس کی حمایت میں آدمی نے ایک قرآنی آیت کو پالیا ہو۔ بلکہ لازمی طور پر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ آیت اسی خاص موقع کے لئے ہو جہاں اس کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ بصورت دیگر ایسا فعل ایک سرکشی ہو گانہ کہ قرآن کا اتباع۔ فہم قرآن کی کلید ”فہم قرآن کی کلید کیا ہے“۔ اس سوال کے مختلف جوابات دئے گئے ہیں۔ مثلاً ایک جواب یہ ہے کہ قاری قرآن کی اس انقلابی اسکیم کو جانتا ہو جو قرآن کا اصل مقصود ہے۔ مگر یہ ایک ایسا جواب ہے جس کا مآخذ خود قرآن میں موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ محض اپنے ذاتی ذہن کے تحت اس سوال کا جواب متعین نہیں کیا جا سکتا۔ ہم قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں پاتے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ قرآن کو صرف وہ شخص سمجھے گا جو قرآن کی انقلابی اسکیم سے واقف ہو۔ ایسی حالت میں یہ جواب قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ وہ اس قابل ہے کہ پہلے مرحلہ ہی میں اس کو رد کر دیا جائے۔ اسی طرح کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ”نظم کلام“ وہ کلید ہے جس کے ذریعہ ہم قرآن کو سمجھ سکتے ہیں۔ مگر یہ جواب بھی درست نہیں۔ کیوں کہ وہ بھی صرف ذاتی سوچ (reasoning) پر مبنی ہے۔ قرآن میں ایسی کوئی آیت موجود نہیں جو یہ اعلان کرتی ہو کہ نظم کلام کا سمجھنا قرآن فہمی کی کلید ہے۔ ایسی حالت میں اس کو بھی زیر غور نہیں لایا جا سکتا۔ یہ زیادہ سے زیادہ ایک استنباطی قرینہ ہے، وہ کوئی منصوص

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page