آسمانی کتابیں
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
جان لو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول ہے۔ اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لے تو تم بڑی مشکل میں پڑ جاؤ لیکن اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور اس کو تمہارے دلوں میں مرغوب بنا دیا، اور کفر اور فسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کر دیا۔ ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل اور انعام سے راست پر ہیں۔ اور اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے (الحجرات ۶-۸) ایک آدمی کو اگر کوئی ایسی خبر ملے جس میں اس آدمی پر کوئی الزام آتا ہو تو ایسی خبر کو محض سن کر مان لینا ایمانی احتیاط کے سراسر خلاف ہے۔ سننے والے پر لازم ہے کہ وہ اس کی ضروری تحقیق کرے، اور جو رائے قائم کرے، غیر جانب دارانہ تحقیق کے بعد کرے نہ کہ تحقیق سے پہلے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی بری خبر ایک شخص کو ملتی ہے تو فوراً ہی اس کو مان کر اس کے خلاف جوابی اقدام کا منصوبہ بنانے لگتا ہے۔ یہ سخت غیر ذمہ داری کی بات ہے۔ نہ کسی آدمی کو ایسی خبر پر قبل از تحقیق کوئی رائے قائم کرنا چاہئے اور نہ دوسروں کو قبل از تحقیق اقدام کا مشورہ دینا چاہئے۔ جو لوگ واقعی ہدایت کے راستہ پر آجائیں ان کے اندر انتہائی محتاط مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ دوسروں پر الزام تراشی سے انہیں نفرت ہو جاتی ہے۔ غیر تحقیق بات پر بولنے سے زیادہ وہ اس پر چپ رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کا یہ مزاج اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ان کو خدا کی رحمتوں سے حصہ ملا ہے۔ وہ ایمان فی الواقع ان کی زندگیوں میں اترا ہے جس کا وہ اپنی زبان سے اقرار کر رہے ہیں۔ 49-170 نزاع کے وقت اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ جائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں کا ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ پھر اگر وہ لوٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کراؤ اور انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ مسلمان سب بھائی بھائی ہیں، پس اپنے بھائیوں کے درمیان ملاپ کرو اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے (الحجرات 9-۱۰)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader