Urdu book · مطالعہ قرآن

آسمانی کتابیں

Urdu book, p. 205

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمان آپس میں کس طرح رہیں، اس کا جواب ایک لفظ میں یہ ہے کہ وہ اس طرح رہیں جس طرح بھائی بھائی آپس میں رہتے ہیں۔ دینی رشتہ خونی رشتہ سے کسی طرح کم نہیں۔ اگر دو مسلمان آپس میں لڑ جائیں تو بقیہ مسلمانوں کو ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ ان کے درمیان مزید آگ بھڑکائیں۔ بلکہ انہیں بھائیوں والے جذبہ کے تحت دونوں کے درمیان مصالحت کے لئے اٹھ جانا چاہئے۔ دو مسلمان جب آپس میں لڑ جائیں تو ایک صورت یہ ہے کہ بقیہ مسلمان غیر جانب دار بن جائیں۔ یا اگر وہ دخل دیں تو اس طرح کہ خاندانی اور گروہی عصبیت کے تحت اپنوں سے مل کر غیروں سے لڑنے لگیں۔ یہ تمام طریقے اسلام کے خلاف ہیں۔ صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے کہ اصل معاملہ کی تحقیق کی جائے اور جو شخص حق پر ہو اس کا ساتھ دیا جائے اور جو شخص ناحق پر ہو اس کو مجبور کیا جائے کہ وہ معاملہ کے منصفانہ فیصلہ پر راضی ہو۔ اللہ سے ڈرنے والا آدمی کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ دوسروں کو لڑتے ہوئے دیکھ کر اس سے لذت لے۔ وہ ایسے منظر کو دیکھ کر تڑپے گا۔ اس کا مزاج اسے مجبور کرے گا کہ وہ دونوں کے درمیان تعلقات کو درست کرانے کی کوشش کرے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے اللہ پر ایمان اللہ کی رحمتوں کا دروازہ کھولنے کا سبب بن جاتا ہے۔ 49-171 معاشرتی اخلاق اے ایمان والو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے۔ اور جو باز نہ آئیں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ (الحجرات ۱۱) ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر بڑا بننے کا جذبہ چھپا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شخص کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page