آسمانی کتابیں
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرے شخص کی کوئی بات مل جائے تو وہ اس کو خوب نمایاں کرتا ہے تاکہ اس طرح اپنے کو بڑا اور دوسرے کو چھوٹا ثابت کرے۔ وہ دوسرے کا مذاق اڑاتا ہے، وہ دوسرے پر عیب لگاتا ہے، وہ دوسرے کو برے نام سے یاد کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنی بڑائی کے جذبہ کی تسکین حاصل کرے۔ مگر اچھا اور برا ہونے کا معیار وہ نہیں ہے جو آدمی بطور خود مقرر کرلے۔ اچھا دراصل وہ ہے جو خدا کی نظر میں اچھا ہو اور برا وہ ہے جو خدا کی نظر میں برا ٹھہرے۔ اگر آدمی کے اندر فی الواقع اس کا احساس ہو جائے تو اس سے بڑائی کا جذبہ چھن جائے گا۔ دوسرے کا مذاق اڑانا، دوسرے کو طعنہ دینا، دوسرے پر عیب لگانا، دوسرے کو برے لقب سے یاد کرنا، سب اس کو بے معنی معلوم ہونے لگیں گے۔ کیوں کہ وہ جانے گا کہ لوگوں کے درجہ و مرتبہ کا اصل فیصلہ خدا کے یہاں ہونے والا ہے، پھر اگر آج میں کسی کو سفیر بھول اور آخرت کی میلی دنیا میں وہ باعزت قرار پائے تو میرا اس کو حقیر سمجھنا کس قدر بے معنی ثابت ہوگا۔ 49-172 بری رائے قائم کرنا اے ایمان والو، بہت سے گمانوں سے بچو، کیوں کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ اور ٹوہ میں نہ لگو۔ اور تم سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے۔ اس کو تم خود ناگوار سمجھتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ معاف کرنے والا رحِم کرنے والا ہے۔ (الحجرات ۱۲) ایک آدمی کسی شخص کے بارہ میں بدگمان ہو جائے تو اس کی ہر بات اس کو غلط معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کے بارہ میں اس کا ذہن منفی رخ پر چل پڑتا ہے۔ اس کی خوبیوں سے زیادہ وہ اس کے عیوب تلاش کرنے لگتا ہے۔ اس کی برائیوں کو بیان کر کے اسے بے عزت کرنا اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔ اکثر سماجی خرابیوں کی جڑ بدگمانی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ آدمی اس معاملہ میں چوکس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader