Urdu book · مطالعہ قرآن

آسمانی کتابیں

Urdu book, p. 208

By Maulana Wahiduddin Khan

صرف یہ ہے کہ کون اللہ سے ڈرنے والا ہے اور کون اللہ سے ڈرنے والا نہیں۔ اور اس کا بھی صحیح علم صرف خدا کو ہے نہ کہ کسی انسان کو۔ انسانوں کے درمیان جو فرق یا تنوع آتا ہے وہ معاشرتی اور تمدنی مصلحتوں کی بنا پر ہے نہ کہ امتیاز یا تفوق کی بنا پر۔ یہ فرق سماجی زندگی کی تعمیر اور تہذیب کے ارتقاء میں مددگار ہوتا ہے۔ جہاں تک انسانی شرف کا سوال ہے، اس کا تعلق ہر آدمی کے اپنے اخلاقی اوصاف پر ہے۔ یہ دراصل اخلاقی صفات ہیں جو کسی انسان کو پست اور کسی انسان کو بلند کرتی ہیں۔ نہ کہ ظاہری علامتیں ۔ 50-174 قول و عمل کاریکارڈ اور ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں ان باتوں کو جو اس کے دل میں آئی ہیں۔ اور ہم رگِ گردن سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔ جب دو لینے والے لیتے رہتے ہیں جو کہ دائیں اور بائیں طرف بیٹھے ہیں۔ کوئی لفظ وہ نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک مستعد نگران موجود ہے۔ (ق ۱۶۔ ۱۸) اس کا علم ہر بال پر محیط رہتا ہے کہ سالِ ربط کے طور پر ’’مکان کا قابلِ خطابات نظام موجود ہے۔ دنیا کی مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں فطری طور پر ریکارڈنگ کا نا قابلِ خطا نظام موجود ہے۔ انسان کی سوچ اس کے ذہنی پردہ پر ہمیشہ کے لئے نقش ہو رہی ہے۔ انسان کا ہر بول لہروں کی صورت میں مستقل طور پر باقی رہتا ہے۔ انسان کا عمل حرارتی لہروں کے ذریعہ خارجی دنیا میں اس طرح محفوظ ہو جاتا ہے کہ اس کو کسی بھی وقت دہرایا جا سکے۔ یہ سب آج کی معلوم حقیقتیں ہیں۔ اور یہ معلوم حقیقتیں قرآن کی اس خبر کو قابلِ فہم بنا رہی ہیں کہ انسان کی نیت ، اس کا قول اور اس کا عمل سب کچھ خالق کے علم میں ہے۔ انسان کی ہر چیز فرشتوں کے رجسٹر میں درج کی جا رہی ہے۔ اس معاملہ میں علمی مطالعہ اور الہامی خبر کے درمیان یہ فرق ہے کہ جس واقعہ کو ہم قانونِ فطرت کے تحت ہوتا ہوا دیکھتے ہیں اسی کو قرآن خدائی فرشتوں کی طرف منسوب کر رہا ہے۔ گویا کہ دونوں میں جو فرق ہے وہ صرف انتساب میں ہے نہ کہ نفس واقعہ کی موجودگی میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page