صابرانہ عمل
Urdu book, p. 209
By Maulana Wahiduddin Khan
صابرانہ عمل اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں بنایا اور ہم کو کچھ تکان نہیں ہوئی ۔ پس جو کچھ وہ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور اپنے رب کی تسبیح کرو حمد کے ساتھ ، سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے۔ اور رات میں اس کی تسبیح کرو اور سجدوں کے پیچھے (ق ۳۸ ۔ ۴۰) زمین و آسمان کو چھ دنوں ، بالفاظ دیگر چھ دوروں میں پیدا کرنا بتاتا ہے کہ خدا کا طریقہ تدرجی عمل کا طریقہ ہے ۔ اور جب خدا ساری طاقتوں کا مالک ہونے کے باوجود واقعات کو تدرج کے ساتھ ہی مدت میں ظہور میں لاتا ہے تو انسان کو یہی چاہئے کہ وہ جلد بازی سے بچے، وہ صبرانہ عمل کے ذریعہ نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ دعوت کا عمل شروع سے آخر تک صبر کا عمل ہے۔ اس میں انسان کی طرف سے پیش آنے والی تلخیوں کو سہنا پڑتا ہے۔ اس میں نتیجہ سامنے دکھائی نہ دینے کے باوجود اپنے عمل کو جاری رکھنا پڑتا ہے۔ اس صبر آزما عمل پر وہی شخص قائم رہ سکتا ہے جس کے صبح وشام ذکر اور عبادت میں گزرتے ہوں، جو انسانوں سے نہ پا کر خدا سے پا رہا ہو، جو سب کچھ کھوکر بھی احساس محرومی کا شکار نہ ہو سکے۔ 51-176 صفتِ نطق اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لئے۔ اور خود تمہارے اندر بھی۔ کیا تم دیکھتے نہیں اور آسمان میں تمہاری روزی ہے اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ پس آسمان اور زمین کے رب کی قسم، وہ یقینی ہے جیسا کہ تم بولتے ہو (الذاریات ۲۰ ۔ ۲۳) اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ موجودہ معلوم دنیا بعد کو آنے والی نامعلوم دنیا کی نشانی بن گئی ہے۔ زمین میں پھیلے ہوئے مادی واقعات اور انسان کے اندر چھپے ہوئے احساسات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader