فہم قرآن کی کلید
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
قرینہ نہیں۔ اور اس اہم سوال کا جواب پانے کے لئے قرآنی نص درکار ہے نہ کہ کسی کا ذاتی استنباط۔ اس پہلو سے جب ہم قرآن کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں اس کا جواب نہایت واضح لفظوں میں موجود ہے۔ مثلاً قرآن کے آغاز ہی میں یہ آیت ہمیں ملتی ہے کہ : ذالك الكتاب لا ريب فيه، هدی للمتقین۔ (البقرہ ۲) اس آیت سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ قرآن سے رہنمائی لینے کے لئے جو اصل چیز مطلوب ہے وہ تقویٰ ہے۔ اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اتقوا الله ويعلمكم الله (البقرہ ۲۸۲) اس آیت سے بھی واضح طور پر یہ بات نکلتی ہے کہ علم ربانی یا فہم قرآنی کی اصل کلید یہ ہے آدمی کے اندر تقویٰ کی صفت موجود ہو۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تقویٰ کس طرح فہم قرآن کی کلید ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن جیسے کلام کو سمجھنے کے لئے اصل اہمیت یہ ہے کہ آدمی کے اندر سنجیدگی ہو۔ اس کے اندر کامل اعتراف کا جذبہ پایا جاتا ہو۔ وہ ہر قسم کے تعصبات سے خالی ہو کر قرآن کا مطالعہ کرے۔ وہ قرآن کو خود قرآن کی نظر سے دیکھے نہ کہ کسی اور نظر سے۔ وہ پورے معنوں میں حق کا متلاشی ہو۔ وہ قرآن میں خود قرآن کی بات جاننے کی کوشش کرے نہ کہ خود اپنی بات کو قرآن سے نکالنے کی کوشش کرنے لگے۔ وہ کھلے ذہن کے تحت قرآن کا مطالعہ کرے نہ کہ متاثر ذہن (conditioned (mind کے تحت۔ حقیقی تقویٰ آدمی کے اندر یہی صفات پیدا کرتا ہے۔ تقویٰ اس گہری اور ذہنی اور قلبی کیفیت کا نام ہے جو اس آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے جو اللہ کو اس کی عظمت و جلال کے ساتھ دریافت کرے۔ ایسا شخص انسان اصلی (man cut to size) بن جاتا ہے۔ اس کے اندر آخری حد تک فروتنی (modesty) کی صفت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور بلاشبہ یہی وہ نفسیات ہے جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ حقائق و معارف کا ادراک کر سکے۔ قرآن فہمی کی دوسری تمام شرائط کی حیثیت اضافی ہے اور اس متقیانہ مزاج یار بانی نفسیات کی حیثیت اصلی۔ قرآن معرفت حق کی کتاب ہے۔ قرآن کا حقیقی مطالعہ وہ ہے جو اس کا عارفانہ مطالعہ ہو۔ فنی مطالعہ قرآن کا حقیقی مطالعہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader