Urdu book · مطالعہ قرآن

صابرانہ عمل

Urdu book, p. 210

By Maulana Wahiduddin Khan

دونوں بالواسطہ انداز میں اس واقعہ کی پیشگی خبر دے رہے ہیں جو موت کے بعد براہ راست انداز میں انسان کے سامنے آنے والا ہے۔ انہیں نشانیوں میں سے ایک نشانی نطق (بولنا) ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں جو کچھ ملے گا وہ خود آدمی کے اپنے اعمال ہوں گے جو اس کی طرف لوٹا دئے جائیں گے (انما هی اعمالكم ترد عليكم) گویا آخرت کی دنیا موجودہ دنیا ہی کا شنی (double) ہے۔ آدمی کا نطق اسی امکان کا ایک جزئی مظاہرہ ہے۔ آدمی کی آواز ٹیپ پر ریکارڈ کر دی جائے اور پھر ٹیپ کو بجایا جائے تو آدمی کے مرنے کے بعد بھی عین وہی آواز اس سے نکلتی ہے جو انسان کی آواز تھی۔ ٹیپ کی آواز انسان کی اصل آواز کا ثنی (double) ہے، اس طرح انسان کی آواز جزئی سطح پر اس واقعہ کا تجربہ کرا رہی ہے جو کلی سطح پر آخرت میں ظاہر ہونے والا ہے۔ جب ایک مرے ہوئے انسان کی ہستی آواز کی صورت میں جزئی طور پر قابل اعادہ ہے تو انسان کی پوری ہستی کیوں ناقابل اعادہ ہو جائے گی۔ نطق کا یہ ظاہرۃ حیات بعد الممات کا ایک واقعی ثبوت ہے۔ 51-177 کائنات کا مطالعہ اور ہم نے آسمان کو اپنی قدرت سے بنایا اور ہم کشادہ کرنے والے ہیں۔ اور زمین کو ہم نے بچھایا، پس کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں۔ اور ہم نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا بنایا ہے تا کہ تم دھیان کرو۔ پس دوڑو اللہ کی طرف، میں اس کی طرف سے ایک کھلا ڈرانے والا ہوں۔ اور اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بناؤ، میں اس کی طرف سے تمہارے لئے کھلا ڈرانے والا ہوں (الذاریات ۴۷-۵۱) "ہم آسمان کو کشادہ کرنے والے ہیں" اس فقرہ میں غالباً کائنات کی اس نوعیت کی طرف اشارہ ہے جو صرف حال میں دریافت ہوئی ہے۔ یعنی کائنات کا مسلسل اپنے چاروں طرف پھیلنا۔ کائنات کا اس طرح پھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو کسی پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page