صابرانہ عمل
Urdu book, p. 211
By Maulana Wahiduddin Khan
کیوں کہ اس پھیلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ابتدا ء میں وہ سمٹی ہوئی تھی۔ معلوم مادی قانون کے مطابق، کائنات کے اس ابتدائی گولے کے تمام اجزاء اندر کی طرف کھنچے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں ان کا بیرونی طرف سفر کرنا کسی خارجی مداخلت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اور خارجی مداخلت کو ماننے کے بعد خدا کے وجود کو ماننا لازم ہو جاتا ہے۔ ہماری دنیا کا نظام انتہائی با معنی نظام ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تخلیق کسی اعلیٰ مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے زمین کو فساد سے بھر دیا ہے۔ با معنی کائنات میں یہ بے معنی واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ یہ صورت حال تقاضہ کرتی ہے کہ ایک ایسی دنیا بنے جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہو۔ یہاں دوبارہ موجودہ دنیا کے اندر ایک ایسا واقعہ موجود ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ یہاں رو دوبارہ اور دو بارہ ہے۔ اندر ایک ایسا واقعہ ہورہا ہے، اس کا کتنا جواب دیوتا ہے ۔ اور وہ ہے یہاں کی تمام چیزوں کا جوڑے جڑے ہونا۔ مادہ میں مثبت اور منفی ذرے، نباتات میں نر اور مادہ، انسان میں عورت اور مرد۔ اس سے کائنات کا یہ مزاج معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشیاء کی کمی کو اس کے جوڑے کے ذریعہ مکمل کرنے کا قانون رائج ہے۔ یہ ایک قرینہ سے جو آخرت کے امکان کو ثابت کرتا ہے۔ آخرت کی دنیا گویا موجودہ دنیا کا دوسرا جوڑا ہے جس سے مل کر ہماری دنیا اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔ 52-178 سب سے بڑا عمل بے شک متقی لوگ باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے۔ وہ خوش دل ہوں گے ان چیزوں سے جو ان کے رب نے انہیں دی ہوں گی۔ اور ان کے رب نے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالیا، کھاؤ اور پیو مزے کے ساتھ اپنے اعمال کے بدلے میں تکیہ لگائے ہوئے صف بہ صف تختوں کے اوپر۔ اور ہم بڑے بڑی آنکھوں والی حوریں ان سے بیاہ دیں گے۔ (الطور ۲۷ تا ۲۰) انسان کا سب سے بڑا جرم حق کو جھٹلانا ہے۔ اسی سے بقیہ تمام جرائم پیدا ہوتے ہیں۔ اسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader