صابرانہ عمل
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
طرح انسان کی سب سے بڑی نیکی حق کا اعتراف ہے۔ تمام دوسری نیکیاں اسی سے بطور نتیجہ ظاہر ہوتی ہیں۔ حق کو ماننے سے آدمی کی بڑائی ٹوٹتی ہے۔ یہ کسی انسان کے لئے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ اس پر وہی لوگ پورے اترتے ہیں جن کو اللہ کے ڈر نے آخری حد تک سنجیدہ بنا دیا ہو۔ جو لوگ اس سب سے بڑی نیکی کا ثبوت دیں وہ اس کے مستحق ہیں کہ ان کے لئے جنت کی ابدی نعمتوں کے دروازے کھول دئے جائیں۔ 52-179 بے غرضی قرآن میں پیغمبر کو مخاطب کر کے یوں ارشاد ہوا ہے: کیا تم ان سے معاوضہ مانگتے ہو کہ وہ نادان کے بوجھ سے دبے جارہے ہیں۔ کیا ان کے پاس غیب ہے۔ کیا وہ لکھ لیتے ہیں۔ کیا وہ کوئی تدبیر کرنا چاہتے ہیں۔ پس انکار کرنے والے خود ہی اس تدبیر میں گرفتار ہوں گے۔ کیا اللہ کے سوا ان کا اور کوئی معبود ہے۔ اللہ پاک ہے ان کے شریک بنانے سے۔ (الطور ۴۰۔ ۴۳) مدعو گر وہ ہمیشہ مادہ پرستی کی سطح پر ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں مدعو کو اگر یہ احساس ہو کہ داعی اس سے اس کی کوئی مادی چیز لینا چاہتا ہے تو وہ فوراً اس کی طرف سے متوحش ہو جائے گا۔ وہ داعی کے پیغام پر سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ اس کے اور مخاطبین کے درمیان کسی قسم کے مادی مطالبہ کی بات کبھی نہ آنے پائے۔ اس کے اور مخاطبین کے درمیان آخر وقت تک بے غرضی کی فضا باقی رہے۔ خواہ اس کے لئے اسے یک طرفہ طور پر مادی نقصان برداشت کرنا پڑے۔ داعی جب اپنی دعوت کے حق میں اس حد تک سنجیدگی کا ثبوت دے دے تو اس کے بعد وہ خدا کی اس نصرت کا مستحق ہو جاتا ہے کہ منکرین کی ہر تدبیر ان کے اوپر الٹی پڑے۔ وہ کسی بھی طرح داعی کو مغلوب کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader