سیاسی اقتدار
Urdu book, p. 218
By Maulana Wahiduddin Khan
والے۔ اگر ہم چاہیں تو اس کو سخت کھاری بنادیں۔ پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے۔ کیا تم نے غور کیا اس آگ پر جس کو تم جلاتے ہو۔ کیا تم نے پیدا کیا ہے اس کے درخت کو یا ہم ہیں اس کے پیدا کرنے والے۔ ہم نے اس کو یاد دہانی بنایا ہے۔ اور مسافروں کے لئے فائدہ کی چیز۔ پس تم اپنے عظیم رب کے نام کی تسبیح کرو (الواقعہ ۷۳-۷۲) ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا، زمین سے کھیتی کا اگنا، بارش سے پانی کا برسنا، ایندھن سے آگ کا حاصل ہونا، یہ سب چیزیں براہ راست خدا کی قدرت کے تحت ہوتی ہیں۔ آدمی کو ان کے ملنے پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ ان کو خدا کا عطیہ سمجھنا چاہئے نہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ۔ ان واقعات میں غور کرنے والے کے لئے بے شمار نصیحتیں ہیں۔ ان میں موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح ان میں یہ نشانی ہے کہ جس نے ان کو دوبارہ وہ ان کو چھین بھی سکتا ہے۔ پھر اسی کا ایک نمونہ پانی کا معاملہ ہے۔ پانی کا ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جو کہ زیادہ تر کھاری ہیں۔ پانی کا تقریباً ۹۸ فیصد حصہ سمندر میں ہے۔ اور سمندر کے پانی کا 10 حصہ نمک ہوتا ہے۔ یہ خدا کے قانون کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے جب پانی کے بخارات اٹھتے ہیں تو خالص پانی اوپر اڑ جاتا ہے اور نمک نیچے رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بارش کا عمل ازالہ نمک (desalination) کا ایک عظیم آفاقی عمل ہے۔ اگر یہ قدرتی اہتمام نہ ہو تو سارا کا سارا پانی ویسا ہی کھاری ہو جائے جیسا سمندر کا پانی ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور دریاؤں میں بہنے والا پانی سب کے سب سخت کھاری ہوں۔ زمین پر پانی کے اتھاہ ذخیروں کے باوجود میٹھے پانی کا حصول انسانیت کے لئے سخت نا قابل حل مسئلہ بن جائے۔ آدمی اگر اس کو سوچے تو اس کا سینہ حمد خداوندی کے جذبہ سے بھر جائے گا۔ 57-187 دنیا کی حقیقت جان لو کہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ کھیل اور تماشہ ہے اور زینت اور باہمی فخر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader