سیاسی اقتدار
Urdu book, p. 220
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا میں کسی چیز کا ملنا یا کسی چیز کا چھننا دونوں امتحان کے لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر مقرر فرما دیا ہے کہ کس شخص کو اس کے امتحان کا پرچہ کن کن صورتوں میں دیا جائے گا۔ آدمی کو اصلاً جس چیز پر توجہ دینا چاہئے وہ یہ نہیں کہ اس کو کیا ملا اور اس سے کیا چھینا گیا بلکہ یہ کہ اس نے کس موقع پر کس قسم کا رد عمل (response) پیش کیا۔ صحیح اور مطلوب رد عمل یہ ہے کہ آدمی سے کھویا جائے تو وہ دل برداشتہ نہ ہو اور جب اس کو ملے تو وہ اس کی بنا پر فخر و غرور میں مبتلا نہ ہو جائے۔ 57-189 حدیدی کردار ہم نے اپنے رسولوں کو نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور ترازو اتاری، تا کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔ اور ہم نے لوہا اتارا جس میں بڑی قوت ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں اور تا کہ اللہ جان لے کہ کون اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے بن دیکھے، بے شک اللہ طاقت والا زبردست ہے۔ (الحدید ۲۵) اس دنیا میں صاحب ایمان سے دو چیزیں مطلوب ہیں۔ ایک پیروی دین ، اور دوسری حمایت دین۔ ترازو گویا پیروی دین کی علامتی مثال ہے۔ جس طرح ترازو پر کسی چیز کا کم و بیش ہونا معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح خدا کی کتاب بھی حق کی ترازو ہے، ہر آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے اعمال کو خدا کی کتاب پر جانچ کر دیکھے اور یہ معلوم کرے کلاس کا عمل کس حد تک درست ہے اور کس حد تک درست نہیں۔ اسی طرح لوہا گویا حمایت دین کی علامتی مثال ہے۔ جب بھی دین کا کوئی معاملہ پڑے تو وہاں آدمی کو لوہے کی طرح مضبوط ثابت ہونا چاہئے۔ اس کو فولادی قوت کے ساتھ دین کا دفاع کرنا چاہئے۔ دین کے معاملہ میں کمزوری دکھانا اپنے ایمان کو خدا کی نظر میں مشتبہ ثابت کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جانچ میں پورا نہیں اترا۔ اس دنیا میں دین کے تقاضے پورا کرنا اسی شخص کے لئے ممکن ہے جو اپنے اندر پختہ کردار کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اکثر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ حق کا کھلا اعتراف کرنا اپنے آپ کو لوگوں کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader