Urdu book · مطالعہ قرآن

سیاسی اقتدار

Urdu book, p. 222

By Maulana Wahiduddin Khan

بالواسطہ طور پر غیر ملفوظ کا ئنات میں۔ ”میں خدا کی نگرانی میں ہوں “ یہ یقین آدمی کو آخری حد تک چوکنا بنا دیتا ہے۔ وہ ہر وقت اپنا جائزہ لیتا رہتا ہے۔ کیوں کہ اس کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر وہ خود اپنا احتساب نہ کرے تو خداوند عالم اس کا احتساب کرے گا، اور پھر خدا کی پکڑ سے بچنا میرے لئے کسی طرح ممکن نہ ہوگا۔ 59-191 ایمانی بلندی اور جو لوگ پہلے سے دار الاسلام (مدینہ) میں قرار پکڑے ہوئے ہیں اور ایمان استوار کئے ہیں، جو ان کے پاس ہجرت کر کے آتا ہے اس سے وہ محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس سے تنگی نہیں پاتے جو مہاجرین کو دیا جاتا ہے۔ اور وہ ان کو اپنے اوپر مقدم رکھتے ہیں۔ اگر چہ ان کے اوپر فاقہ ہو۔ اور جو شخص اپنے جی کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ اور جوان کے بعد آئے وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں۔ اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لئے کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب، تو بڑا شفیق اور مہربان ہے۔ (الحشر ۹-۱۰) ہجرت کے نتیجے میں جو مسلمان بے وطن ہوئے اور مکہ کو چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے مقامی مسلمانوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے سارا مال مہاجرین کے درمیان تقسیم کر دیا۔ اور انصار کو کچھ نہیں دیا۔ اس پر بھی انصار مدینہ کے اندر ان کے خلاف کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان مہاجر مسلمانوں کے اتنے زیادہ قدرداں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہتر دعائیں نکلتی رہیں ۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں جو حالات پیدا ہوئے وہ دونوں کے لئے امتحان تھے۔ وہ یہ کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page