Urdu book · مطالعہ قرآن

سیاسی اقتدار

Urdu book, p. 223

By Maulana Wahiduddin Khan

اختلاف کے باوجود دونوں مسلم گروہ آپس میں متحد رہیں۔ معاشی مسائل کے باوجود ان کی فراخ دلی متاثر نہ ہو۔ مشکلات کے باوجود ان کے اخلاص میں کوئی فرق نہ آئے۔ مفادات کے ٹکراؤ کے باوجود ہر ایک دوسرے کا خیر خواہ بنا رہے۔ اپنی قربانی کی مادی قیمت نہ ملنے کے باوجود ان کے اندر منفی جذبات نہ ہوں۔ دولت اور عہدہ کی تقسیم میں امتیاز کے باوجود ان کی دینی یکسوئی میں فرق نہ آئے۔ دنیوی نوعیت کے تلخ تجربات کے باوجود ان کا سینہ شکایت اور نفرت سے خالی رہے۔ 59-192 عقل کا نتیجہ بے شک تم لوگوں کا ڈر ان کے دلوں میں اللہ سے زیادہ ہے۔ یہ اس لئے کہ وہ لوگ سمجھ ہیں رہے۔ یہ لوگ سب بل نرم سے بنی ہیں لے۔ ہر حفاظت والی بستیوں یا دیواروں کی آڑ میں۔ ان کی لڑائی آپس میں سخت ہے۔ تم ان کو متحد خیال کرتے ہو اور ان کے دل جدا جدا ہورہے ہیں۔ یہ اس لئے کہ وہ لوگ عقل نہیں رکھتے۔ (الحشر ۱۳۔ ۱۴) خدا کی طاقت بظاہر دکھائی نہیں دیتی۔ مگر انسانوں کی طاقت کھلی آنکھ سے نظر آتی ہے۔ اس بنا پر ظاہر پرست لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ سے تو بے خوف رہتے ہیں۔ مگر انسانوں میں اگر کوئی زور آور دکھائی دے تو وہ فوراً اس سے ڈرنے کی ضرورت محسوس کرنے لگتے ہیں۔ خدا کے بارہ میں ان کی بے شعوری انہیں ان کی دنیا کے بارہ میں بھی بے شعور بنادیتی ہے۔ ایسے لوگ جن کو صرف منفی مقصد نے متحد کیا ہو وہ زیادہ دیر تک اپنا اتحاد باقی نہیں رکھ پاتے کیوں کہ دیرپا اتحاد کے لئے مثبت بنیاد درکار ہے اور وہ ان کے پاس موجود ہی نہیں۔ ان آیتوں میں خدا سے خوف کو بھی عقل کا نتیجہ بتایا گیا ہے اور باہمی اتحاد کو بھی عقل کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ الہیات اور انسانیات دونوں ہی کی درستی عقل و فہم کے اوپر منحصر ہے۔ کوئی فرد یا گروہ عقلی اعتبار سے جتنا زیادہ باشعور ہوگا اتنا ہی زیادہ اس کی زندگی کے معاملات درست ہوں گے، خدا کی نسبت سے بھی اور انسانوں کی نسبت سے بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page