انسان کا مستقبل
Urdu book, p. 224
By Maulana Wahiduddin Khan
59-193 انسان کا مستقبل اے ایمان والو اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا بھیجا ہے۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ اور تم ان لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے ان کو خود ان کی جانوں سے غافل کر دیا۔ یہی لوگ نافرمان ہیں۔ دوزخ والے اور جنت والے برابر نہیں ہو سکتے۔ جنت والے ہی اصل میں کامیاب ہیں۔ (الحشر ۱۸۔۲۰) انسانی زندگی کو ”آج“ اور ”کل“ کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے۔ موجودہ دنیا انسان کا آج ہے اور آخرت کی دنیا اس کا کل ہے۔ انسان موجودہ دنیا میں جو کچھ کرے گا اس کا لازمی انجام اس کو آخرت کی طویل ترین زندگی میں بھگتنا پڑے گا۔ والے دائمی گھر میں بسادے گا۔ یہی اصل حقیقت ہے اور اسی حقیقت کا دوسرا نام اسلام ہے۔ انسان کی کامیابی اس میں ہے کہ وہ اس حقیقت واقعی کو ہمیشہ ذہن میں رکھے۔ جو شخص اس حقیقت واقعی سے غافل ہو جائے اس کی پوری زندگی غلط ہو کر رہ جائے گی۔ اس معاملہ میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کا کوئی فرق نہیں۔ مسلمانوں کو اس کا فائدہ اسی وقت ملے گا جب کہ واقعہ وہ اس پر قائم ہوں۔ مسلمان اگر غفلت میں پڑ جائیں تو ان کا انجام بھی وہی ہو گا جو اس سے پہلے غفلت میں پڑنے والے یہود کا ہوا۔ آخرت میں کامیاب انسانوں اور ناکام انسانوں کی تفریق کی جائے گی۔ ایک گروہ کے لئے جنت ہو گی اور دوسرے گروہ کے لئے جہنم۔ یہ تقسیم نسلی یا گروہی بنیاد پر نہیں ہو گی۔ وہ تمام تر حقیقت کی بنیاد پر ہو گی۔ ہر آدمی کا مستقبل اس کے ذاتی وصف (merit) کی بنیاد پر طے کیا جائے گا، نہ کہ کسی اور مفروضہ بنیاد پر۔ 59-194 خدا اور کائنات اگر ہم اس قرآن کو پہاڑ پر اتارتے تو تم دیکھتے کہ وہ خدا کے خوف سے دب جاتا اور پھٹ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader