انسان کا مستقبل
Urdu book, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
کی کہ تم ان سے دوستی کرو، اور جو ان سے دوستی کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ (الممتحنہ ۹-۸) جہاں تک عدل و انصاف کا تعلق ہے وہ ہر ایک سے کیا جائے گا، خواہ فریق ثانی دشمن ہو یا غیر دشمن۔ عدل سے انحراف کسی بھی حال میں جائز نہیں۔ مگر دوستی کا تعلق ہر ایک سے درست نہیں۔ دوستی صرف اسی کے ساتھ جائز ہے جو اللہ کا دوست ہو یا کم از کم یہ کہ وہ اللہ کا دشمن نہ ہو۔ 61-196 کامیاب تجارت اے ایمان والو، کیا میں تم کو ایک ایسی تجارت بتاؤں جو تم کو ایک دردناک عذاب سے بچا لے ۔ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنے جان سے جہاد رو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تم ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور عمدہ مکانوں میں جو ہمیشہ رہنے کے باغوں میں ہوں گے، یہ ہے بڑی کامیابی اور ایک اور چیز بھی جس کی تم تمنا رکھتے ہو، اللہ کی مدد اور فتح جلدی، اور مومنوں کو بشارت دے دو۔ (الصف ۱۰۔ ۱۳) تجارت میں آدمی پہلے دیتا ہے، اس کے بعد اس کو واپس ملتا ہے، دین کی جدوجہد میں بھی آدمی کو اپنی قوت اور اپنا مال دینا پڑتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ بھی ایک قسم کی تجارت ہے۔ البتہ دنیوی تجارت کا نفع صرف دنیا میں ملتا ہے اور دین کی تجارت کا نفع مزید اضافہ کے ساتھ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔ پھر اسی تجارت سے اہل اسلام کے غلبہ کی راہ بھی کھلتی ہے جو موجودہ دنیا میں کسی گروہ کو با عزت زندگی حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ 62-197 جمعہ کا دن اے ایمان والو، جب جمعہ کے دن کی نماز کے لئے پکارا جائے تو اللہ کی یاد کی طرف چل پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ پھر جب نماز پوری ہو جائے تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader