انسان کا مستقبل
Urdu book, p. 227
By Maulana Wahiduddin Khan
زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔ تاکہ تم فلاح پاؤ۔ اور جب وہ کوئی تجارت یا کھیل تماشہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ اور تم کو کھڑا ہوا چھوڑ دیتے ہیں، کہو کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے۔ اور اللہ بہترین رزق دینے والا ہے۔ (الجمعہ ۹ - ۱۱) دنیا میں آدمی بیک وقت دو تقاضوں کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک معاش کا تقاضا اور دوسرے دین کا تقاضا۔ ان میں سے ہر تقاضا ضروری ہے۔ البتہ ان کے درمیان اس طرح تقسیم ہونی چاہئے کہ معاشی سرگرمیاں دینی تقاضے کے ماتحت ہوں۔ آدمی کو اجازت ہے کہ وہ جائز حدود میں معاش کے لئے دوڑ دھوپ کرے۔ مگر یہ ضروری ہے کہ اس کو جو معاشی کامیابی حاصل ہو اس کو وہ اللہ کا فضل سمجھے، نہ معاش۔ اس گرمی کردور الہوار اور اللہ کو یاد کر کے، تیار ہو اس کی اس تو وہ سر اسر اللہ کا عمل ہے۔ یہ معاشی سرگرمی کے دوران برابر اللہ کو یاد کرتا رہتا ہے۔ اسی کے ساتھ اس کو ہمیشہ تیار رہنا چاہئے کہ جب بھی دین کے کسی تقاضے کے لئے پکارا جائے تو اس وقت وہ ہر دوسرے کام کو چھوڑ کر دین کے کام کی طرف دوڑ پڑے۔ قرآن کی ان آیتوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کا دن اسلام کے نقشۂ حیات میں، کاروباری اور دفتری چھٹی کا دن نہیں ہے، کیوں کہ اس آیت کے مطابق مسلمان جمعہ کے دن اپنے کاروباری میں مشغول رہیں گے اور صرف اس وقت کچھ دیر کے لئے اپنا کاروبار بند کریں گے جب کہ مسجدوں سے اذان کی آواز بلند ہو، اذان کے بعد وہ وقتی طور پر مسجد میں آئیں گے اور نماز کی ادائیگی کے بعد وہ دوبارہ اپنے کاروباری مشاغل کی طرف لوٹ جائیں گے۔ اصل یہ ہے کہ ہفتہ کی چھٹی کا مسئلہ کوئی دینی مسئلہ نہیں وہ ایک دنیوی مسئلہ ہے۔ اور حدیث : انتم اعلم بامور دنیاکم ( صحیح مسلم) کے مطابق، اس کا فیصلہ دنیوی مصلحت کی بنیاد پر کیا جائے گانہ کہ شرعی مسئلہ کی بنیاد پر۔ 63-198 منافقانہ روش جب منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ بے شک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader