انسان کا مستقبل
Urdu book, p. 228
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ بے شک تم اس کے رسول ہو۔ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین جھوٹے ہیں۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے، پھر وہ روکتے ہیں اللہ کی راہ سے، بے شک نہایت برا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔ یہ اس سبب سے ہے کہ وہ ایمان لائے پھر انہوں نے کفر کیا، پھر ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی۔ پس وہ نہیں سمجھتے۔ (المفقون ۱-۳) یہ کسی آدمی کے نفاق کی علامت ہے کہ وہ بڑی بڑی باتیں کرے۔ اور قسم کھا کر اپنی بات کا یقین دلائے۔ مخلص آدمی اللہ کے خوف سے دبا ہوا ہوتا ہے۔ وہ زبان سے زیادہ دل سے بولتا ہے۔ منافق آدمی صرف انسان کو اپنی آواز سنانے کا مشتاق ہوتا ہے۔ اور مخلص آدمی خدا کو سنانے کا۔ جب ایک شخص ایمان لاتا ہے تو وہ ایک سنجیدہ عہد کرتا ہے۔ اس کے بعد زندگی کے عملی مواقع آتے ہیں، جہاں ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس عہد کے مطابق عمل کرے۔ اب جو شخص ایسے مواقع پر اپنے دل کی آواز کو سن کر عہد کے تقاضے پورے کرے گا۔ اس نے اپنے عہد ایمان کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس جس کا یہ حال ہو کہ اس کے دل نے آواز دی مگر اس نے دل کی آواز کو نظر انداز کر کے عہد کے خلاف عمل کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دھیرے دھیرے اپنے عہد ایمان کے معاملہ میں بے حس ہو جائے گا۔ یہی مطلب ہے دل پر مہر لگنے کا۔ 63-199 منافقانہ روش اور جب تم ان منافقین کو دیکھو تو ان کے جسم تم کو اچھے لگتے ہیں، اور اگر وہ بات کرتے ہیں تو تم ان کی بات سنتے ہو، گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں ٹیک لگائی ہوئی۔ وہ ہر زور کی آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہی لوگ دشمن ہیں، پس ان سے بچو۔ اللہ ان کو ہلاک کرے، وہ کہاں پھرے جاتے ہیں۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ، اللہ کا رسول تمہارے لئے استغفار کرے تو وہ اپنا سر پھیر لیتے ہیں۔ اور تم ان کو دیکھو گے کہ وہ تکبر کرتے ہوئے بے رخی کرتے ہیں۔ ان کے لئے یکساں ہے، تم ان کے لئے مغفرت کی دعا کرو، یا مغفرت کی دعا نہ کرو، اللہ ہر گز ان کو معاف نہ کرے گا۔ اللہ نافرمان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader