Urdu book · مطالعہ قرآن

انسان کا مستقبل

Urdu book, p. 230

By Maulana Wahiduddin Khan

سے خرچ کرو اس سے پہلے کہ تم میں کسی کی موت آجائے۔ پھر وہ کہے کہ اے میرے رب، تو نے مجھے کچھ اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کر تا اور نیک لوگوں میں شامل ہو جاتا۔ اور اللہ ہر گز کسی جان کو مہلت نہیں دیتا جب کہ اس کی میعاد آجائے، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو (المفقون (۹۔۱۱) ہر آدمی کے لئے سب سے بڑا مسئلہ آخرت کا مسئلہ ہے۔ مگر مال اور اولاد انسان کو اس سب سے بڑے مسئلے سے غافل کر دیتے ہیں۔ انسان کو جاننا چاہئے کہ مال اور اولاد مقصد نہیں بلکہ ذریعہ ہیں۔ وہ اس لئے کسی کو دئے جاتے ہیں کہ وہ ان کو اللہ کے کام میں لگائے۔ وہ ان کو اپنی آخرت بنانے میں استعمال کرے۔ مگر نادان آدمی ان کو بذاتِ خود مقصود سمجھ لیتا ہے۔ ایسے لوگ جب اپنے آخری انجام کو پہنچیں گے تو وہاں ان کے لئے حسرت و افسوس کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ دنیا میں مال اور اولاد اور اس قسم کی دوسری چیزیں جو انسان کو دی گئی ہیں وہ اس کے لئے انعام نہیں ہیں بلکہ وہ اس کے لئے آزمائش ہیں۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی ان چیزوں کو پا کر اپنے لئے ایک پر راحت زندگی بنائے اور اس میں خوش رہے۔ بلکہ ان میں سے ہر چیز انسان کے لئے امتحان کا پرچہ ہے۔ ان کے ذریعہ انسان کو جانچا جا رہا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ ان چیزوں کو اپنے لئے آزمائش سمجھے نہ کہ نعمت۔ نعمت تو آخرت میں ملے گی۔ موجودہ دنیا جانچنے کی جگہ ہے۔ اور آخرت اس جانچ کے مطابق انعام یا سزا پانے کی جگہ ہے۔ 64-201 تسبیح کائنات اللہ کی تسبیح کر رہی ہے ہر چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر چیز جو زمین میں ہے۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لئے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن، اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ اس نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طور پر پیدا کیا اور اس نے تمہاری صورت بنائی تو نہایت اچھی صورت بنائی۔ اور اسی کی طرف ہے لوٹنا۔ وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اور وہ جانتا ہے جو تم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page